✍️ مولانا شاہ زیب عطّاری مدنی
(ماہنامہ فیضانِ مدینہ، مئی 2021ء)
مزدور کا لفظ ہمارے ہاں عمومی طور پر ان لوگوں پر استعمال ہوتا ہے جو سامان، مٹی، سیمنٹ کی بوریاں، اینٹیں وغیرہ اٹھاتے ہیں، گھروں، عمارتوں، سڑکوں اور دیگر تعمیراتی کام کرتے ہیں، جبکہ اسی کام کے ماہرین کو مستری اور کاریگر وغیرہ کے لفظ سے پُکارا جاتا ہے۔
مزدور کے کام کو مزدوری کہتے ہیں جسے عربی میں کَسْب یا عمل سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے، لغوی اور اصطلاحی معنیٰ کے حساب سے دیکھا جائے تو ہر وہ کام جس کے بدلے میں اُجرت ملتی ہے وہ مزدوری میں شمار ہوتا ہے۔
دنیا جہان میں کوئی ایک بھی ایسا طبقہ یا شعبہ نہیں ہے جس کے متعلق اسلامی تعلیمات میں معتدل اور زمانی ضروریات کے موافق راہنمائی نہ ملتی ہو۔ مزدوروں، ملازموں، اَجیروں اور ماتحتوں کے حوالے سے بھی تعلیماتِ اسلامیہ میں واضح راہنمائی موجود ہے۔ دینِ اسلام نے ہر طبقۂ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی طرح مزدوروں کو بھی حقوق دئیے ہیں یعنی مزدوروں کے حقوق کی ادائیگی، ان کی مزدوری و محنت کا بدلہ وقت پر دینا، ان سے ان کی طاقت کے مطابق کام لینا، کام لینے میں نرمی، شفقت اور انسانیت سے کام لینا وغیرہ۔
مزدوروں کے ساتھ حُسنِ سُلوک کرنے کے حوالے سے پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عظیم ہے:
انہیں (یعنی غلاموں، اجیروں اور مزدوروں کو) اتنے زیادہ کام کا مکلف نہ کرو کہ وہ ان کی طاقت سے زیادہ ہو، اگر ایسا کرو تو ان کی مُعاوَنت بھی کرو۔
📖 بخاری، 1 / 23، حدیث: 30، اللامع الصبیح شرح الجامع الصحیح، 1 / 210، تحت الحدیث: 30
مزدور سے پہلے کام لے لیا اور جب مزدوری اور اُجرت دینے کی باری آئی تو جھگڑا کھڑا ہوگیا، مزدور زیادہ مانگتا ہے، کام والا کم دیتا ہے، دینِ اسلام نے اس کا بھی حل پہلے ہی سے ارشاد فرما دیا چنانچہ حديثِ پاک میں ہے:
جب کسی اَجیر کو اُجرت پر رکھو تو اسے اس کی اُجرت پہلے ہی بتا دو۔
📖 نسائی، ص629، حدیث: 3862
*ایک اور حدیثِ پاک میں ہے:*
نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مزدور کی اجرت اسے واضح بتا دینے سے پہلے کام لینے کی ممانعت فرمائی ہے۔
📖 کنزالعمال، 2 / 366، حدیث: 9123
مزدوروں کی مزدوری نہ دینے والوں کو تنبیہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:
ميں قیامت کے دن تین افراد کا مقابل ہوں گا (یعنی سخت سزا دوں گا):
*(1) ...* ایک وہ شخص جو میرے نام پر وعدہ دے پھر عہد شکنی کرے۔
*(2) ...* وہ شخص جو کسی آزاد انسان کو بیچ دے اور پھر اس کی قیمت کھالے۔
*(3) ...* وہ شخص جس نے کوئی مزدور اُجرت پر لیا اور پھر اس سے کام تو پورا لیا لیکن اس کی اُجرت اسے نہ دی۔
📖 بخاری، 2/52، حدیث: 2227، مراۃ المناجیح، 4 / 334
مزدور کی مزدوری بَروقت دینا اَخلاقی و شرعی دونوں طرح سے بہت ضروری ہے، رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا:
مزدور کا پسينہ خشک ہونے سے پہلے اُس کی مزدوری ادا کرو۔
📖 ابن ماجہ، 3 / 162، حدیث: 2443
مزدوروں کو مالی و جانی تحفظ دینے میں دینِ اسلام سب سے آگے ہے، رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے تو جنگ میں بھی ان مزدوروں کو قتل کرنے سے منع فرما دیا جو لڑنے کے لئے نہ آئے ہوں۔
📖 ابوداؤد، 3 / 73، حدیث: 2669
اللہ کریم ہمیں مزدوروں اور تمام حق داروں کے حُقوق بَروقت اور صحیح صحیح ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین۔