مجیب:مفتی قاسم صاحب مدظلہ العالی
فتوی نمبر:Pin-5880
دَارُالاِفْتَاء اَہْلسُنَّت
(دعوت اسلامی)
*سوال نمبر 387*
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ اگر قمیص کے اوپر جیکٹ یا واسکٹ پہنی ہو اور اس کی زپ یا بٹن کھول کر نماز پڑھیں، تو کیا اس طرح نماز ہو جاتی ہے؟
سائل:فاروق عطاری ( راولپنڈی)
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
جی ہاں! اس طرح نماز پڑھنے سے نماز ہو جائے گی۔
سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:’’انگرکھے پر جو صَدری یا چُغہ پہنتے ہیں اور عرف عام میں ان کا کوئی بوتام بھی نہیں لگاتے اور اسے معیوب بھی نہیں سمجھتے، تو اس میں بھی حرج نہیں ہونا چاہئے، کہ یہ خلاف معتاد نہیں ۔ ‘‘
( فتاوی رضویہ، جلد 7، صفحہ 386، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
فتاوی فقیہ ملت میں ہے:’’اس طرح کپڑا پہن کر نماز پڑھی کہ نیچے کرتے کا سارا بٹن بند ہے اور اُوپر شیروانی یا صَدری کا کل یا بعض بٹن کھلا ہے، تو حرج نہیں ۔ ( فتاوی فقیہ ملت، جلد 1، صفحہ 174، شبیر برادرز، لاھور )
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم