یہ بات نوٹ فرما لے کہ آپ اپنے بچے بچیوں کو اچھے سے اچھے سکول میں پڑھا لیں مگر
ساتھ ہی ان بچوں کے ہاتھوں میں موبائل-فون بھی تھما رہے ہیں تو یقین جان لیں آپ کے بچے سکول سے نہیں موبائل فون سیکھ رہے ہیں اور وہ کیا سیکھ رہے ہیں برائی اور برے عقائد، آج کے اس پرفتن دور میں جن والدین نے اپنے بچوں کو 12 بارہ سے 15 پندرہ سال تک موبائل فون دور رکھا تو وہ بچے بااخلاق، بڑوں کا ادب کرنے والے اچھائی اور برائی کو سمجھ کر برائی سے بچنے والے بنیں گے ورنہ
بچے آپ کو وہ خطرناک نتیجہ دینے والے ہیں جس کا آپ نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہو گا
ایک اور بات وہ یہ ہے کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ والدین بچوں کو شروع دن سے غلطی پر ٹوکتے نہیں ہیں انہیں اچھائی اور نیکی کی اہمیت نہیں بتاتے اور برائی کے اسباب سے بچنے کی تعلیم نہیں دیتے نتیجہ بچے تو آپ کے پڑھ جائیں گے لیکن بچے بدتمیز ، والدین کی نافرمان بننے کے ساتھ ساتھ، گناہوں بھری زندگی کے عادی بن جائیں گے نہ انہیں یہ تمیز رہے گی کہ برائی کون سی ھے برا دوست کون سا ہوتا ھے برائی کے اسباب کون کون سے ہیں اور ان سے بچنا کیسے ھے؟ اگر یہ نتیجہ پڑھا لکھا کر نکل رہا ھے تو سمجھ لیں کہ آپ دنیا کے ناکام ترین والدین ہونے کے ساتھ ساتھ اللّٰہ و رسول کی نافرمانی کے مرتکب ہیں آج سوچنے کا موقع ھے نتیجہ فوکس رکھ کر سوچنے کا ذہن بنائیں گے تو ہو سکتا ھے بھیانک نتائج سے بچ جائیں گے
اللّٰہ آپ کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین