*📌 نجدی وہابیوں دیوبندیوں کا پراپیگنڈا*
*اعلی حضرت اور 8 ربیع الاول*
جب عاشقانِ مصطفی اپنے نبی ﷺ کی آمد کی خوشیاں مناتے ہیں تو کچھ *وہابی دیوبندیوں کو بہت ہی تکلیف* ہوتی ہے اور ان کی یہ پریشانی اعتراض بن کر ہمارے سامنے آتی ہے-
*ربیع الاول کی بارہویں 12 تاریخ کو حضور اکرم ﷺ کی آمد کا جشن منایا جاتا ہے تو اس پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی ولادت تو آٹھ 8 تاریخ کو ہوئی تھی جیسا کہ اعلی حضرت نے لکھا ہے، تو پھر بارہ 12 تاریخ کو جشن کیوں؟*
حقیقت میں اسے ہی کہتے ہیں
*"کھسیائی بلی کھمبا نوچے"*
لیکن یہاں تو کھمبا بھی نہیں !
اگر ہم اس بات کو تسلیم بھی کر لیں کہ اعلی حضرت نے آٹھ 8 ربیع الاول کو ہی درست قرار دیا ہے *اور آٹھ 8 ہی تاریخ کو جشن منانا شروع بھی کر دیں تو کیا ان کو تکلیف نہیں ہوگی؟*
بالکل ہوگی
*اور یہ کہیں گے کہ جب جمہور علماء کا قول بارہ 12 ربیع الاول ہے تو پھر آٹھ 8 تاریخ کو جشن کیوں ؟*
*👈 ہم نے ان وہابی دیوبندی منافق فرقوں کے ہر اعتراض کا جواب دلائل کے انبار کی روشنی میں دیا حتی کہ ان کے اپنے گھر سے ان کے اکابرین کی کتابوں کے حوالہ جات کی صورت میں بھی مگر*
*منافق کی نشانی یہ ہے کہ*
*نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شان دیکھ کر مان کر بھی مکر جاتا ہے انکار کر دیتا ہے*
دراصل یہاں مسئلہ تاریخ کا نہیں ہے
*👈 بلکہ مقصود مسلمانوں کو ایک کار ثواب سے دور کرنا ہے-*
*ہمیں چاہیے کہ ایسے نجدی منافق خارجیوں کی باتوں کو ہرگز مت سنیں ،*
یہ نجدی وہابی دیوبندی لوگ ہمارے بزرگوں بالخصوص اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی *عبارات میں خیانت* کرتے ہیں اور *آدھی ادھوری* بات کو دکھا کر *عوام کو گمراہ* کرنا چاہتے ہیں-
*اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق یہ کہنا کہ ان کے نزدیک حضور اکرم ﷺ کی تاریخ ولادت آٹھ 8 ربیع الاول ہے ،*
یہ قطعی درست نہیں اور *اس پر ہم ان منکرین میلاد نجدی وہابی دیوبندیوں منافق فرقوں کو یہی کہیں گے کہ تم پھر 8 کو ہی منا لیا کرو*
*📌 12 بارہ ربیع الاول نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا یومِ وصال نہیں ہے نجدیوں کا اقرار*
*👈 میلاد النبی صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کے موقعہ پر بارہ ربیع الاوّل کو یومِ وصال کہنے والوں کے بانی مذہب کے بیٹے لکھتے ہیں:*
تاریخ وصال النبی صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم 12 ربیع الاول نہیں ہے بلکہ 9 ربیع الاوّل ہے ۔
*( مختصر سیرت رسول عربی صفحہ نمبر 9 ) ۔*
*( مختصر سیرت رسول مترجم اردو صفحہ نمبر 26)*
*اے بغض نبی* صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم میں *مبتلا نجدی* کے پیرو کارو *وہابی دیوبندیو کب تک جھوٹ* سے کام لوگو ؟
*یاد رہے کہ*
*📌 منافق کی نشانی یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی شان و عظمت کو دیکھ کر مان کر انکار کر دے*
*👈 آؤ الصّلوۃ والسّلام علیک یارسول اللہ پڑھیں*
حکیم الامت *دیوبند اشرفعلی تھانوی* کی تمنا کہتے ہیں :
*میرا جی چاھتا ہے کہ آج درود شریف زیادہ پڑھوں وہ بھی ان الفاظ سے کہ ، الصّلوۃ والسّلام علیک یارسول اللہ ۔*
( شکر النعمہ صفحہ نمبر 10 مطبوعہ تھانہ بھون انڈیا )
نہ جانے *دیوبندیوں* کو تمنا کے باوجود یہ محبت بھرا *درود و سلام الصّلوۃ والسّلام علیک یارسول اللہ* پڑھنے سے کس چیز نے روکا ہوا ہے شاید *راہِ وہابیت* پر چل نکلنے کی وجہ نے ؟
*یاد رہے کہ*
*📌 منافق کی نشانی یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی شان دیکھ کر مان کر بھی انکار کر دے گا*
*نجدی وہابی دیوبندی* جنہیں بڑا ماننے کا دعویٰ کرتے ہیں انہوں کا عید میلاد النبی منانے کا انداز و عقیدہ ملاحظہ کیجئے 👇🏿
*شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:*
*" الہی میرا ایک عمل تیری ذات پاک کی عنایت کی وجہ سے شاندار ہے اور وہ یہ کہ میں مجلس میلاد میں کھڑے ہو کر سلام پڑھتا ہوں اور نہایت عاجزی، محبت و خلوص سے تیرے حبیب پر درود بھیجتا ہوں.*
(اخبارالاخیار ص 264)
*💠 محدث ابن جوزی رحمہ اللہ (متوفی 597ھ) فرماتے ہیں:*
*مکہ مکرمہ، مدینہ طیبہ ، یمن، مصر، شام اور تمام عالم اسلام کے لوگ مشرق سے مغرب تک ہمیشہ سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت با سعادت کے موقع پر محفل میلاد کا انعقاد کرتے چلے آ رہے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ اہتمام آپ کی ولادت کے تزکرے کا کیا جاتا ہے اور مسلمان ان محافل کے ذریعے اجر عظیم اور بڑی روحانی کامیابی پاتے ہیں۔*
(المیلادالنبوی ص58)
*💠 امام ابن ہشام رحمۃ اللہ علیہ کی طرف سے سیرت النبی صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم پر لکھی جانے والی 151 ہجری کی پہلی کتاب میں لکھا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم پیر کے دن 12 ربیع الاوّل کو پیدا ہوئے ۔*
( سیرت ابن ہشام جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 162 مطبوعہ اسلامی کتب خانہ اردو بازار لاہور پاکستان )
*💠 امام ابن حجر رحمہ اللہ ( م 852ھ) فرماتے ہیں :*
*"محافلِ میلاد و اذکار اکثر خیر ہی پر مشتمل ہوتی ہیں، ان میں صدقات، ذکر الہی اور بارگاہ رسالت میں درود و سلام پیش کیے جاتے ہیں"۔*
( فتاویٰ حدیثیہ ص129 )
*💠 امام سیوطی رحمہ اللہ (م 911ھ) فرماتے ہیں:*
*میرے نزدیک میلاد کے لیے اجتماع تلاوتِ قرآن، کو حیات طیبہ کے واقعات اور میلاد کے وقت ظاہر ہونے والی علامات کا تذکرہ ان بدعاتِ حسنہ میں سے ہے جن پر ثواب ملتا ہے کیونکہ اس میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی تعظیم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت پر خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے"*
( حسنالمقصد فی عمل المولد فی الحاوی للفتاویٰ ج1 ص189 )
*💠 محدث ابن جوزی رحمہ اللہ (متوفی 597ھ) فرماتے ہیں:*
*مکہ مکرمہ، مدینہ طیبہ ، یمن، مصر، شام اور تمام عالم اسلام کے لوگ مشرق سے مغرب تک ہمیشہ سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کے موقع پر محفل میلاد کا انعقاد کرتے چلے آ رہے ہیں ان میں سب سے زیادہ اہتمام آپ کی ولادت کے تزکرے کا کیا جاتا ہے اور مسلمان ان محافل کے ذریعے اجر عظیم اور بڑی روحانی کامیابی پاتے ہیں۔*
( المیلادالنبوی ص58 )
*💠 صحيح البخاری کے مصنف (امام بخاری) کے استاد امام ابو بکر بن ابی شیبہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ صحیح اسناد کے ساتھ حضرت جابر اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے ہیں کہ:*
*نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مبارکہ عام الفیل میں بارہ ربیع الاول کو ہوئی۔*
(مصنف ابن ابی شیبہ)
*💠 مشہور مفسر حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے حضرت جابر اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مبارکہ 12(بارہ) ربیع الاول کو ہوئی ۔*
( سیرت ابن کثیر، ج1 ص199)
*💠 شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللہ علیہ کی تحقیق بھی یہی ہے کہ نبی کریم کی ولادت مبارکہ بارہ ربیع الاول کو ہوئی۔*
(مدارج النبوۃ ج2 ص 14)
*میلاد حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کی نظر میں*
*امام ربانی حضرت شیخ احمد فاروقی سرہندی مجدد الف ثانی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں :*
نفس قرآں خواندن بصوتِ حسن و در قصائد نعت و منقبت خواندن چہ مضائقہ است؟ ممنوع تحریف و تغییر حروفِ قرآن است، والتزام رعایۃ مقامات نغمہ و تردید صوت بآں، بہ طریق الحان با تصفیق مناسب آن کہ در شعر نیز غیر مباح است. اگر بہ نہجے خوانند کہ تحریفِ کلمات قرآنی نشود. . . چہ مانع است ؟
*ترجمہ :،*
*مجلس میلاد شریف*
میں اگر اچھی آواز کے ساتھ قرآن پاک کی تلاوت کی جائے اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت شریف اور صحابہ کرام و اہل بیت عظام و اولیائے اعلام رضی اللہ عنہم اجمعین کی منقبت کے قصیدے پڑھے جائیں *تو اس میں کیا حرج ہے؟*
ناجائز بات تو یہ ہے کہ قرآن عظیم کے حروف میں تغیر و تحریف کر دی جائے۔
اور قصیدے پڑھنے میں راگنی اور موسیقی کے قواعد کی رعایت و پابندی کی جائے اور تالیاں بجائی جائیں۔
*جس مجلس میلاد مبارک میں یہ ناجائز باتیں نہ ہوں اس کے ناجائز ہونے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟*
*ہاں جب تک راگنی اور تال سُر کے ساتھ گانے اور تالیاں بجانے کا دروازہ بالکل بند نہ کیا جائے گا ابو الہوس لوگ باز نہ آئیں گے۔ اگر ان نامشروع باتوں کی ذرا سی بھی اجازت دے دی جائے گی تو اس کا نتیجہ بہت ہی خراب نکلے گا ۔*
( مکتوبات امام ربّانی جلد دوم سوم صفحہ 489 مطبوعہ اسلامی کتبخانہ اردو بازار لاہور )۔
( مکتوبات ربانی دفتر سوم مکتوب نمبر 72 صفحہ نمبر 204 مترجم زوار شاہ ) ۔
جاری ہے ۔ ۔ ۔ ۔
*🌹منتخب اردو تحریریں🌹*
.jpeg)