تحریر ۔عمر احمد
انڈونیشیا کے دوست سے ایک موضوع پر بات ہوئی ، وہ موضوع کیا تھا بہت اہم تھا ، بیوی کی شوہر کی تعظیم کے بارے تھا، تو اس پر انہوں نے بتایا کہ ہمارے ہاں جب شوہر واپس گھر آتے ہیں تو زوجہ انکے استقبال کے لئے کھڑی ہوتی ہے اور شوہر کی طرف سے آنے والے سلام کا جواب دینے کے بعد اسکا ہاتھ تھامتے ہوئے آگے بڑھ کر چوم لیتی ہے ، پھر یہ بھی انکشاف ہوا کہ ملائشیا میں بھی ایسے ہوتا ہے، جسے جان کر بہت اچھا لگا ، بیشک ویلکمنگ انوائرمنٹ (آنے والے کا استقبال کرنے) کو بہت اہمیت حاصل ہے، خود کہنے سے ہر کوئی قاصر ہوتا ہے لیکن سیکولوجیکلی باہر کی صعوبتوں سے تکھا ہارا شوہر جب گھر پہنچتا ہے تو واقعاً اسے ایک بہترین استقبال کی ضرورت ہوتی ہے جو اسکی ڈائنامک سٹرغل سے ہونے والی تھکن کو سکوں دے سکے، جب وہ مشکلات کی چکی میں پس کر زندگانی تلخیوں سے دو چار ہوکر گھر کا رخ کرتا ہے تو اسے ایک ایسی ویلکمنگ کی حاجت ہوتی ہے جو اسکے ذھنی بگاڑ کو آرام پہنچا سکے ایسے میں زوجہ کا آگے بڑھ کر سلام دعا کرنا اور مصافحہ کرتے ہوئے ہاتھ کو بوسہ دے لینا ایک بہترین استقبال ہے، اس کا ایک عظیم فائدہ آپ کی منے منیوں کی تربیت کا بھی ہے ،کیونکہ بچہ دیکھ کر سیکھنے میں زیادہ ماہر ہوتا ہے، پچھلے دنوں ہماری کلاس روم میں مشہور موٹیویٹر مذھبی اسکالر حاجی یعفور کی تشریف آوری تھی انکا موضوع بھی یہی تھا، تو اُنہوں نے زوجہ کے لئے چند ویلکمنگ انوائرمنٹ کی مثالیں دیں جن میں " زوجہ جتنی بھی مصروف ہو اسے استقبال کے لئے آنا چاہیے اور اس طرح کے کلمات کہ میں آپ کو پانی پیش کروں آپ ٹھیک ہیں ، خیریت سے ہیں ، مجھے تھوڑا کام ہے اگر اجازت دیں تو کر لو وغیرہ کہنے چاہیے ،
*الحاصل کے آپ ہی وہ ہیں جن کے ہاتھ میں تہذیب کا پرچم لہرا رہا ہے ، آپ ہی وہ ہیں جن کے کاندھوں پر گھر کے اچھے ماحول کا بار ہے، آپ ہی وہ ہیں جن کے کردار سے گھر میں رونقیں آتی ہیں، اور آپ ہی وہ ہیں جن کی تربیت سے دنیائے اسلام کورازی،غزالی ،جزری ،شاطبی ،سیوطی ،غرناطی جیسے عظیم علماء ملے، لہذا سیکھ کر سیکھانے کی کوشش جاری رکھیں ، اور اپنے گھروں کو لاعلمی جیسی نحوست سے پاک فرمائیں،*
.jpeg)