*(۱)* غُسل کی نیت کر کے پہلے
*(۲)* دونوں ہاتھ گٹوں تک تین مرتبہ دھوئے پھر
*(۳)* استنجے کی جگہ دھوئے خواہ نَجاست ہو یا نہ ہو پھر
*( ۴)* بدن پر جہاں کہیں نَجاست ہو اس کو دور کرے پھر
*(۵)* نماز کا سا وُضو کرے مگر پاؤں نہ دھوئے،ہاں اگر چوکی یا تختے یا پتھر پر نہائے تو پاؤں بھی دھولے پھر
*(۶)* بدن پر تیل کی طرح پانی چُپَڑ لے خصوصا ً جاڑے میں پھر
*(۷)* تین مرتبہ دہنے مونڈھے پر پانی بہائے پھر
*(۸)* بائیں مونڈھے پر تین بار پھر
*(۹)* سر پر اور تمام بدن پر تین بار پھر
*(۱۰)* جائے غُسل سے الگ ہو جائے،اگر وُضو کرنے میں پاؤں نہیں دھوئے تھے تو اب دھولے اور
*(۱۱)* نہانے میں قِبلہ رُخ نہ ہو اور
*(۱۲)* تمام بدن پر ہاتھ پھیرے اور
*(۱۳)* ملے اور
*(۱۴)* ایسی جگہ نہائے کہ کوئی نہ دیکھے اور اگر یہ نہ ہو سکے تو ناف سے گھٹنے تک کے اعضا کا سِتْر تو ضروری ہے، اگر اتنابھی ممکن نہ ہو تو تیمم کر ے مگر یہ احتمال بہت بعید ہے اور
*(۱۵)* کسی قسم کا کلام نہ کرے۔
*(۱۶)* نہ کوئی دعا پڑھے۔ بعد نہانے کے رومال سے بدن پونچھ ڈالے تو حَرَج نہیں۔
*نوٹ ؛* (لفظ پھر کے ساتھ جس سنت کا بیان ہوا اُس میں وہ شے فی نفسہ بھی سنت ہے اور اُسکا ترتیب کے ساتھ ہونا بھی تو اگر کسی نے خلافِ ترتیب کیا مثلاً پہلے بائیں مونڈھے پر پانی بہایا پھر داہنے پر تو سنت ترتیب ادا نہ ہوئی)
📚 ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الثاني في الغسل، الفصل الثاني، ج۱، ص۱۴. و ''تنویر الأبصار'' و ''الدرالمختار''، کتاب الطہارۃ، ج۱، ص۳۱۹،۳۲۵.
.jpeg)