✍️ مفتی ابو صالح محمد قاسم عطاری صاحب۔
*(اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:)*
*ترجمۂ کنزالعرفان:*
اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بغیر کچھ کئے ستاتے ہیں تو انہوں نے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اُٹھالیا ہے۔
📖 القران، الاحزاب: 58
*شانِ نزول...*
یہ آیت اُن منافقوں کے بارے میں نازل ہوئی، جو حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تعالٰی وجہَہُ الکریم کو ایذا دیتے اور اُن کی بے ادبی کرتے تھے۔
جبکہ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ آیت اُن لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے تُہمت لگا کر حضرت عائشہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالیٰ عَنْہَا کو تکلیف پہنچائی۔
لیکن یہاں تفسیر کا ایک اصول یاد رکھیں کہ آیات کا شانِ نزول اگرچہ خاص ہو لیکن اس کا حکم عام ہوتا ہے۔ اس اصول سے آیت کا عام معنیٰ یہ ہوا کہ جو لوگ کسی مسلمان کو بلاوجہِ شرعی تکلیف پہنچاتے ہیں، وہ بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اٹھاتے اور اس کی سزا کے حق دار بنتے ہیں۔
حقیقی اسلامی معاشرہ وہی ہے، جس میں لوگ ایک دوسرے کی راحت و آرام کا خیال رکھیں، مشکل وقت میں دوسروں کے کام آئیں، کسی کو تکلیف نہ دیں اور اپنے باہمی تعلّقات ملنساری، حُسنِ اَخلاق اور خیرخواہی پر اُسْتُوار کریں۔
اسلام اِنہی چیزوں کا درس دیتا ہے اور مُعاشَرے میں نرمی، مَحبّت، شفقت اور ہمدردی کے جذبات پروان چڑھاتا اور معاشرے کو نقصان پہنچانے والے اُمور مثَلاً بےجا شدّت اور اَیذا رسانی سے منع کرتا ہے۔
آپس میں اچّھے تعلّقات اور صُلْح صفائی سے زندگی گزارنا اِسلام کے بنیادی مقاصد میں سے ہے جبکہ یہ بات واضح ہے کہ لوگوں کے حُقوق ضائع کر کے اور انہیں تکلیف پہنچا کر کبھی اچھے تعلقات قائم نہیں کئے جاسکتے۔
آیت میں اِسی حوالے سے ایک اَہم اُصول دیا گیا ہے اور یہی اِسلامی تعلیمات کا لُبِّ لُباب ہے کہ دوسروں کو بلاوجہ تکلیف نہ دو۔
*حدیثِ مبارک میں ارشاد فرمایا: تم لوگوں کو(اپنے) شر سے محفوظ رکھو، یہ ایک صدَقہ ہے جو تم اپنے نفس پر کرو گے۔*
📖 بخاری، 2/150، حدیث: 2518
ایک دوسری روایت میں ہے کہ سرکارِ دو عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم سے سوال کیا: کیا تم جانتے ہو کہ مسلمان کون ہے؟ انہوں نے عرض کی: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ زیادہ جانتے ہیں۔ ارشاد فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے (دوسرے) مسلمان محفوظ رہیں۔ ارشاد فرمایا: تم جانتے ہو کہ مومن کون ہے؟ صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالیٰٰ عَنْہُمْ نے عرض کی: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ زیادہ جانتے ہیں۔ ارشاد فرمایا: مومن وہ ہے جس سے ایمان والے اپنی جانیں اور اموال محفوظ سمجھیں۔
📖 مسند احمد، 2/654، حدیث:6942
اوپر بیان کردہ احادیث کی مزید تفصیل نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ایک اور فرمان میں موجود ہے، چنانچہ ارشاد فرمایا:
ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، گاہک کو دھوکا دینے اور قیمت بڑھانے کیلئے دکان دار کے ساتھ مل کر جھوٹی بولی نہ لگاؤ، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے منہ نہ پھیرو، کسی کے سودے پر سودا نہ کرو، اور اے اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اُس پر ظلم کرے، نہ اُسے ذلیل و رُسوا کرے اور نہ ہی حقیر جانے۔ (پھر) آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کر کے تین بار فرمایا: تقویٰ یہاں ہے، اور (مزید یہ کہ) کسی شخص کے بُرا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو بُرا جانے۔ ایک مسلمان، دوسرے مسلمان پر پورا پورا حرام ہے، اُس کا خون، اُس کا مال اور اُس کی عزت۔
📖 مسلم، ص1064، حدیث:6541
دوسروں کو تکلیف دینا ناجائز و حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔
*مشہور تابِعی مُفَسِّر حضرت مجاہد رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالیٰ عَلَیْہِ فرماتے ہیں:*
جہنّمیوں پر خارش مُسلّط کردی جائے گی۔ تو وہ اپنے جسم کو کھجلائیں گے حتّی کہ ان میں سے ایک کی (کھال اور گوشت اُترنے سے) ہڈی ظاہر ہو جائے گی۔ اُسے پکار کر کہا جائے گا: اے فُلاں! کیا تمہیں اس سے تکلیف ہوتی ہے؟ وہ کہے گا: ہاں۔ پکارنے والا کہے گا: تُو مسلمانوں کو تکلیف پہنچایا کرتا تھا یہ اُس کی سزا ہے۔
📖 احیاء العلوم الدین، 2 / 242
*؏ یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود*
آیت و احادیث کی روشنی میں یہ حکم روزِ روشن کی طرح واضح طور پر معلوم ہو جاتا ہے کہ دوسروں کو تکلیف دینا، قبیح جرم اور کبیرہ گناہ ہے۔
لیکن ہمارے معاشرے میں اِسلام کا یہ خوب صورت حکم جس طرح پسِ پُشت ڈالا گیا ہے وہ شرْمناک حد تک قابلِ افسوس ہے، مثلا:
شادی بِیاہ کی تقریبات میں ساری رات شور شرابا اور غُل غپاڑا کیا جاتا ہے۔ اونچی آواز میں میوزک بجا کر اور آتش بازی کرکے اہلِِ مَحلّہ بیماروں، بوڑھوں، بچوں اور صبْح جلد کام پر جانے والوں کو رات بھر سخت تکلیف پہنچائی جاتی ہے۔ عید، یومِ آزادی اور سال کی پہلی رات سائلنسر نکال کر موٹر سائیکلوں کے شور سے لوگوں کو پریشان کیا جاتا ہے۔
گلی محلوں میں اور سڑکوں پر کرکٹ، فٹ بال وغیرہ کھیلنا اور خاص طور پر رمَضان کی راتوں میں شب بھر ایسا کرنا اور اِس دوران شور مچا کر تکلیف میں ڈالنا عام ہے۔ روزہ مرہ کی زندگی میں غلط جگہ پارکنگ، گلیوں میں ملبا، کچرا اور غِلاظت ڈال کر دوسروں کو اذیت دینا معمول ہے۔
مختلف مذہبی و غیرمذہبی تقریبات کیلئے نہایت مصروف گلیاں بند کر کے گزر نے والوں کو پریشان کرنا بھی زندگی کا ایک لازِمی حصہ ہے۔
خصوصا پڑوسیوں کو تکلیف پہنچانا تو شاید برائی ہی نہیں سمجھا جاتا بلکہ بعض پڑوسی تو اِس بات پر ناراض ہوتے ہیں کہ آپ نے ہمیں کیوں کہا کہ ہم آپ کو تکلیف نہ دیں، اللہ اکبر! اچھے خاصے دین دار لوگ، پڑوسیوں کے حقوق کے حوالے سے بےپرواہ ہیں، اور دین سے دُور لوگوں کا تو پوچھنا ہی کیا! گھروں میں اونچی آواز سے بولنا، بلند آواز سے ٹی وی چلانا، آدھی رات کو کسی کے گھر کے سامنے جمع ہو کر شور کرنا، رات گئے گھر کا سامان گھسیٹنا، شور پیدا کرنے والے آلات مثلا ڈرِل مشین وغیرہ استعمال کرنا، آدھی رات کو مسالا پیسنے کے شور سے دوسروں کی نیند خراب کرنا، عام سی باتیں ہیں۔
یونہی رات کو پڑوسی صاحب اپنے گھر آئیں تو شور مچاتے، پاؤں گھسیٹتے یا زور زور سے زمین پر مارتے، بلند آواز سے فون پر باتیں کرتے ہوئے آئیں گے، اور گھر کا دروازہ زور زور سے بجائیں گے۔ یہ چند ایک مثالیں ہیں ورنہ پڑوسیوں کو تکلیف پہنچانے کی کوئی حد نہیں۔ حالانکہ پڑوسیوں کے حقوق کی ادائیگی اِس قدر اہم ہے کہ ایک مرتبہ نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے صحابۂ کرام سے ارشاد فرمایا:
خدا کی قسم! وہ شخص مومن نہیں، خدا کی قسم! وہ شخص مومن نہیں، خدا کی قسم! وہ شخص مومن نہیں۔ صحابۂ کرام نے پوچھا: یارسول اللہ! کون؟ فرمایا: جس کی آفتوں سے اس کے پڑوسی محفوظ نہ ہوں۔ (یعنی جو شخص اپنے پڑوسیوں کو تکلیفیں دیتا ہو۔)
📖 بخاری، 4/104، حدیث: 6016
کیا ہم (کامل) مومن ہیں؟ غور کرلیں۔
اے اللہ! ہمارے دلوں میں رحم ڈال کہ ہم دوسروں کو تکلیف نہ پہنچائیں۔
آمین یارب العالمین
خود بھی عمل کیجئے اور زیادہ سے زیادہ شیئر بھی کیجئے۔
*🌹منتخب اردو تحریریں🌹*
.jpeg)