*(1) ...* تجسس کرنا چھوڑ دیں کسی کی ٹوہ میں لگنا انسان کو نفسیاتی مریض بنا دیتا ہے بلکہ ایک ماہر نفسیات کے بقول اکثر نفسیاتی امراض کا سبب تجسس کرنا ہے چنانچہ ہر وقت اس فکر میں رہنا کہ مجھے فلاں کے حالات سے واقفیت رہے تاکہ کل کو اس پر موقعہ ملے تو برتری دکھائی جائے اور اسے رسوا کیا جائے یہ خاندان میں بگاڑ کا سبب بنتا ہے
*(2) ...* خاندان کے افراد کو برے ناموں اور برے القابات سے ذکر کرنا چھوڑ دیں غیبت سے اجتناب کریں کیونکہ یہی باتیں دوسروں تک پہنچ کر فساد کا سبب بنتی ہیں اور ویسے بھی یہ رویہ انسان کو بد اخلاق بناتا ہے اور بد خلقی سارے امراض کی انتہاء ہے
*(3) ...* حسد Jealousy کرنا چھوڑ دیں کہ یہ ایک آگ ہے جو انسان کو جلا کر رکھ رکھ دیتی ہے دوسروں کے ساتھ جو بھی نعمت ھو اسکے زوال اور چھن جانے کی تمنا نہ کریں بلکہ اسکے لئیے دعائے خیر اور اپنے لئیے نعمت ملنے کی دعا کریں
*(4) ...* ایسے موضوعات پر گھروں میں تبصرے بند کردیں جو لڑائی جھگڑے اور نفرتوں کا سبب ہوں مسلمان کی پردہ پوشی کا اہتمام کریں کسی کے عیب اچھالنے کی بجائے اپنے عیوب کو ختم کرنے کی کوشش کریں
*(5) ...* جن سے ناراضگی یا ناچاقی ہے ان کو اپنی گنجائش کے مطابق ھدیہ Gift دیں چاہے وہ کسی چیز کا ہدیہ ہو یا اعمال کا ہدیہ ھو یعنی انکے ساتھ کسی بھی موقع پر مدد کرنا اور پریشانی دور کرنا اسکے علاوہ حسب موقعہ حال احوال بھی لیتے رہیں بیمار ھونے پر عیادت بھی کیا کریں
*نوٹ ...*
*یہ صفات خاندان کے ہر ہر فرد کے لئیے لکھے گئے ہیں*
*لہذا کوئی یہ نہ سمجھے کہ اسکا مخاطب جانب مقابل رشتہ دار ھے پہل بھی اسے کرنا چاہیے پھر کہیں ھم اس پر عمل کریں گے*
*یہ سوچ درست نہیں بلکہ جو بھی پہل کرے گا اللہ تعالی اجر عظیم بھی اسی کو عطاء فرمائیں گے اور اسی کی نیک نامی ھو گی ان صفات کو اپنانے سے ان شاء اللہ سارے مسائل حل ہوجائیں گے*
.jpeg)