ایک دیہاتی عورت اپنی بیٹی کو شادی کی رات وصیتیں کرتے ہوئے بولتی ہے کہ
اے میری پیاری بیٹی! اگرچہ تُو مہذب مؤدب اور شائستہ گو خاتون ہے۔ اور اگرچہ تیرا باپ بھی امیر آدمی ہے (تیرے ناز نخرے اٹھا سکتا تھا)
اے میری بیٹی! جس ناز و نعم والے گھر میں تو پلی بڑھی، جن سہیلیوں کے ساتھ حسیں بچپن گزارا آج ان سب سے دور ایک ایسے اجنبی و ناآشنا کے گھر جا رہی ہو جسے پہلے کبھی دیکھا بھی نہیں لہذا میری یہ چند نصیحتوں کو اپنے ساتھ لیتی جاؤ تمہارے لئے کارآمد ثابت ہوں گی۔
اپنے شوہر کے ساتھ شکر اور صبر سے رہنا
دھیان سے اس کی بات سننا اور من و لگن سے اس کی فرمانبرداری کرنا
اسکے اشاروں کو سمجھنا اور اپنے عیوب کو اس سے بچا کے رکھنا
اس کے کھانے کے اوقات کو یاد رکھنا اس کی نیند میں خلل نہ ڈالنا کیونکہ بھوک غصے کا اور نیند میں خلل اندازی نفرت کا سبب بنتی ہے
اگر وہ پریشان ہو تو اپنی خوشی کا اظہار نہ کرنا اور اگر خوش ہو تو اپنے رونے کھول کر نہ بیٹھ جانا
تم سب سے ذیادہ اس کی عزت کرنا وہ تمہیں سب سے ذیادہ احترام دے گا
یاد رکھنا تمہیں حقیقی مسرت اس وقت نصیب ہو گی جب تم اپنی مرضی کو اس کی مرضی کے آگے قربان کردو گی اور اپنی خواہش کو اس کی خواہش کے آگے جھکا دو گی خواہ اس میں تمہارا بھلا ہو یا برا۔
*جا خدا تیرا بھلا کرے*
📚 *تاریخ ادب العربی ص24*
.jpeg)