*
جو اپنی آخرت سنوارنے کی نِیَّت کرے اسے دنیا و آخرت کی بھلائی نصیب ہوتی ہے، دنیا خود بخود اس کے قدموں میں آتی ہے اور جو آخرت کی فکر چھوڑ کر صرف دنیا ہی کا طلبگار ہوتو وہ اپنی نِیَّت کی وجہ سے فَقر (غربت) میں مبتلا ہوجاتا ہے، وہ دنیا کے پیچھے جتنا دوڑتا ہے دنیا اُس سے اتنا ہی دور بھاگتی ہے، اسے صرف وہی ملتا ہے جو اس کے مقدر میں لکھا جاچکا، نصیب سے زیادہ ایک دانہ بھی نہیں مِل سکتا جیسا کہ:
*نبیِّ کریم، رءوف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ ذیشان ہے:*
*جو آخرت کا طلبگار ہو اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس کا دل غنی کر دیتا ہے اور اُس کے بکھرے ہوئے کاموں کو جمع کر دیتا ہے اور دنیا اس کے پاس ذلیل و خوار ہو کر آتی ہے اور جو دنیا کا طلبگار ہوتو اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس کا فقر اُس کی آنکھوں کے سامنے کر دیتا ہے اور اُس کے جمع شدہ کاموں کو مُنْتَشِر کر دیتا ہے اور دنیا کا (مال) بھی اُسے اتنا ہی ملتا ہے جتنا اُس کے لئے مقدر ہے۔*
📖 ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع، باب ماجاء فی صفۃ اوانی ا لحوض، ۴/۲۱۱، حدیث: ۲۴۷۳