..................... ..................
*دیکھا دیکھائی اور سُنی سُنائی کو تسلیم کرکے اندھا دھند چلتی معاشرتی بگاڑ کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہنا درست ہے کہ آج سے 10، 20 سال بعد نئی نَسل میں جمعہ کے دن کی مُبارَک دینا ایک نیکی بَن چکا ہوگا، اور پهر مزید 40، 50 سال میں اسے ایک سُنَّت یا فرِیضے کے طور پر جانا جائے گا... اُس وقت جو شخص لوگوں کو بتائے گا کہ ”یَومِ جمعہ کی مبارَکباد دینا نہ تو سُنَّت ہے نہ فرض، بلکہ اِسے ایسا سمجهنا بِدعَت ہے، کیونکہ ایسا کرنا قُرآن و حدِیث اور صحابہ سے ثابت نہیں.“ تو لوگ اُس سے کہیں گے، ”تم عجِیب بات کر رہے ہو، ہم نے تو اپنے باپ دادا کو ایسا ہی کرتے دیکها ہے، اور اُن کے عُلَمَاء بهی اُن کو مَنع نہیں کرتے تهے، تو تم اُن عُلَمَاء سے زِیادہ عِلم رکهتے ہو؟ ہم نہیں بلکہ تم نئی بات کر رہے ہو.“ وہ شخص اُس دَور کا وَہابی کہلائے گا اور بزرگوں کا گُستاخ ٹهہرے گا، حالانکہ وہ حَقّ پر ہوگا.*
( یقیناً میری اس تحریر سے کچھ لوگ ایسے بھی ہونگے جن کے زہن میں یہ اعتراض آج بھی پیدا ہوگا کہ جمعہ مبارک کہنے میں بھلا کیا جاتا ہے؟؟ ،... یاد رکھیے! دینِ اسلام مکمل ہے، اس میں شامل ہونے والی ہر وہ نئی شے جو عبادت اور نیکی سمجھ کر اپنائی جائے اور وہ بظاہر جتنی بھی خوشنما اور دلکش کیوں نہ ہو، وہ بدعت ہی کے زمرے میں آئے گی، بدعت دین میں اضافہ ہے، ہر بدعت دین سے گمراہی اور دوری ہے اور ہر گمراہی کا انجام جہنم کی آگ ہے)
*ہماری آنکهوں کے سامنے سوشل مِیڈِیا کی اِیجاد کے بعد پروان چڑھنے والی ایسی اَن گِنَت بِدعات اور خُود ساختہ خرافات اور مَوضُوعات کی حوصلہ شِکنی کِیجِئے اور خود کو اور آئِندہ نَسل کو بِدعات سے بچائِیے۔ اگر یَومِ جمعہ کی مبارَک دینا مُستحسن کام ہوتا تو اِمَامُ الۡأَنْبِيَاء سَيِّدُنا مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰه صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهٖ وَسَلَّمَ ضُرُور بَضُرُور اِس کا حُکم دے دیتے اور صَحابَۂ کَرام رَضِيَ اللّٰهُ تَعٰالىٰ عَنہُم اِسے ضُرُور اَپناتے، کیونکہ وہ دِین کی سمجھ اور نیک عَمَل کی مَحَبَّت میں یَقِیناً ہم سے آگے تهے۔*