حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ اپنی رِعایا کی خبر گِیری و حاجت رَوائی کے لئے اکثر رات کے وَقت مدینۂ منوَّرہ زادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً وَّ تَکْرِیماً کا دَورہ فرمایا کرتے تھے کہ کہیں کوئی مصیبت زَدہ یا مظلوم مدد کا مُنتظِر تو نہیں۔
حضرت سیِّدُنا اسلم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کا بیان ہے کہ ایک رات میں بھی مَدَنی دورے میں امیرالمؤمنین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کے ہمراہ تھا۔ آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ تھک کر ایک جگہ بیٹھ گئے اور ایک مکان کی دیوار سے ٹیک لگا لی۔ اچانک ایک آواز سنّاٹے کو چِیرتی ہوئی آپ کے کانوں سے ٹکرائی، بظاہر وہ کُھسَر پُھسَر ہی تھی مگر ماحول کی خاموشی کی وجہ سے صاف سُنائی دے رہی تھی۔
اسی گھر میں ایک عورت اپنی بیٹی کو بیدار کرتے ہوئے کہہ رہی تھی: بیٹی!اُٹھو اور دودھ میں تھوڑا سا پانی ملا دو۔
کچھ وقفے کے بعد لڑکی کی آواز سنائی دی: امی جان! کیا آپ کو معلوم نہیں کہ امیرُالْمُؤمِنِین نے یہ اِعلان کروایا ہے کہ کوئی بھی دودھ میں پانی نہ ملائے۔
ماں نے کہا: اس وَقت امیرُالْمُؤمِنِین اور اِعلان کرنے والے تمہیں کہاں دیکھ رہے ہیں! جاؤ اور دودھ میں پانی ملا دو مگر بیٹی صاف اِنکار کرتے ہوئے کہنے لگی: امی جان! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! یہ مجھ سے نہیں ہوسکتا کہ میں لوگوں کے سامنے تو امیرُالْمُؤمِنِین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی اِطاعت گزاری کروں اور تنہائی میں نافرمانی!
حضرت سیِّدُنا اسلم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ امیرُ الْمُؤمِنِین حضرتِ سیِّدُنا عمرفاروقِ اعظم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے ماں بیٹی کی گفتگو سُن کر مجھ سے فرمایا: اسلم! اِس مکان کو اچّھی طرح پہچان لو۔
پھر آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ساری رات اسی طرح گلیوں میں دورہ فرماتے رہے، جب صبح ہوئی تو مجھے اُس مکان کے مکینوں (رہنے والوں) کی معلومات کیلئے بھیجا۔ میں نے معلومات کیں تو پتا چلا کہ اس گھر میں ایک بیوہ عورت اپنی کنواری بیٹی کے ساتھ رہتی ہے، میں نے بارگاہِ خلافت میں حاضِر ہو کر اپنی کارکَردَگی پیش کر دی۔
حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے اپنے تمام بیٹوں کو جمع کر کے دریافت فرمایا: کیا تم میں سے کوئی شادی کرنا چاہتا ہے؟ حضرت سیِّدُنا عبدُاللّٰہ اور سیِّدُنا عبدالرحمن رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما نے عَرض کی: ہم تو شادی شُدہ ہیں۔ لیکن تیسرے بیٹے حضرتِ سیِّدُنا عاصِم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ شادی کے لئے راضی ہوگئے۔
چُنانچِہ آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے اُس لڑکی کے گھر اپنے شہزادے سے شادی کے لئے پیغام بھیجا جو قبول کر لیا گیا، شادی خانہ آبادی ہوگئی، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے کَرَم سے ان کے یہاں ایک خوش قسمت بیٹی پیدا ہوئی، پھر جب اُس کی شادی ہوئی تو اس کے بَطن سے "عمرِ ثانی" یعنی حضرت سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العَزِیز کی وِلادت ہوئی۔
📖 سیرت ابن جوزی، ص 10
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کہ دودھ میں پانی ملانے سے اِنکار کرنے والی خوش نصیب مُبلِّغہ کو اس نیکی کا کیسا عُمدہ صِلہ ملا کہ ایک طرف امیرُالْمُؤمِنِین حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی بہو اور دوسری جانب عمرِ ثانی امیرُالْمُؤمِنِین حضرت سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کی نانی ہونے کا شَرف حاصل ہوا۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔ اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم
*رشتہ طے کرتے وقت کیا دیکھنا چاہئے۔۔۔۔؟*
اِس سچی حکایت سے ایک مَدَنی پھول یہ بھی ملا کہ جب بھی رشتہ کیا جائے تو تقویٰ و پرہیزگاری کو ترجیح دی جائے جیسا کہ امیرُالْمُؤمِنِین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے کیا۔
مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بھی ہمیں یہی مَدَنی پھول عطا فرمایا ہے کہ
کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے چار چیزوں کو مَدِّنظر رکھا جاتا ہے:
*(1) ... اُس کا مال۔*
*(2) ... حَسَب ونَسَب۔*
*(3) ... حُسن و جمال اور*
*(4) دین۔*
*پھر فرمایا: تم دیندار عورت کے حُصُول کی کوشِش کرو۔*
*📖 بخاری، 3 / 429، حدیث: 5090*
مگر افسوس کہ ہمارے معاشرے میں عام طور پر لڑکے والوں کی تمنا یہ ہوتی ہے کہ مالدار کی بیٹی گھر میں آئے تاکہ ہمارے بیٹے کے سارے اَرمان نکلیں، اِس قدر جہیز ملے کہ گھر بھر جائے بلکہ اب تو ہاتھ جھاڑ کر منہ پھاڑ کر مطالبہ کیا جاتا ہے کہ جہیز میں فُلاں فُلاں چیز دوگے تو شادی ہوگی، اُدھر لڑکی والوں کے سامنے اگر کسی نیک و پرہیزگار اسلامی بھائی کا رشتہ پیش کیا جائے تو بَسااوقات صرف اِس وجہ سے اِنکار کردیتے ہیں کہ وہ بارِیش (یعنی داڑھی والا) اور سنتوں کا عامِل ہے جبکہ اس کے بَرعکس ایسے نوجوان کے رشتے کو ترجیح دینے میں خوشی محسوس کرتے ہیں جو مالدار ہو۔ چاہے وہ اپنے برُے اعمال سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کو ناراض کر کے جہنم میں جانے کا سامان کر رہا ہو، اُس کی صحبت اُن کی بیٹی کو بھی خوفِ خدا عزَّوَجَلَّ سے بے نیاز اور اُس کی عبادت سے غافِل کر سکتی ہے۔
لہٰذا والدین کو چاہیئے کہ اپنے بچوں کی اچھی پرورش کریں اور اُن کا نکاح اسلامی طریقے کے مطابق اچھی جگہ کریں جہاں اُن کو اچھی صحبت ملے اور وہ دنیا و آخرت میں کامیاب ہوجائیں۔
حکایت سے ایک سبق اور ملتا ہے کہ دودھ میں پانی ملانا سخت گناہ کا کام اور جہنم میں لے جانے والا عمل ہے.