*مائیں اور تمام عورتیں متوجہ ہوں۔*
*تقریباً ہر گھر میں لڑکی کے بالغ ہوتے ہی اس کو کام کاج سکھانا شروع کر دیتے ہیں لیکن جونہی اس سے چھوٹی سی غلطی ہوتی ہے کہہ دیا جاتا ہے کہ سسرال جاؤ گی تو پتہ چلے گا۔*
*مثلاً کوئی لڑکی صبح لیٹ اٹھتی ہے یا ماں اٹھاتی ہے تو ساتھ میں یہ الفاظ سویرے سویرے ہی کان میں ڈال دئیے جاتے ہیں کہ سسرال والوں نے تیرا جینا حرام کر دینا ہے وہاں تو سونے کو بھی نصیب نہیں ہونا اور یوں لڑکی کے دل، دماغ میں اس کی شادی ہونے تک یا تو اک ڈر بیٹھ جاتا ہے سسرال خاص کر کے لفظ ساس سے لڑکی متنفر ہو چکی ہوتی ہے ۔*
*کیا سسرال والے انسان نہیں ہوتے؟*
*کیا وہاں دشمن ہوتے ہیں ؟*
*کیا وہ بدلا لینے کیلئے بیاہ کر لے جاتے ہیں؟*
*کیا وہاں کسی کے ارمان نہیں ہوتے؟*
*اگر وہ اچھی لڑکی تلاش کرتے ہیں تو نفرت کیلئے؟*
*خیر ایسے اور بھی بہت سے سوال مگر چونکہ لڑکی کے دماغ میں ڈر بیٹھا ہوتا ہے اور ساس دشمن بنا دی گئی ہوتی ہے جس وجہ سے لڑائیاں معمول کا حصہ بن جاتی ہیں ۔*
*میں مانتا ہوں، بیٹی کو سمجھانا ضروری ہے، سکھانا ضروری ہے، مگر طریقے اور بھی بہت ہیں۔*
*اچھا طریقہ اپناؤ محبت کرنا سکھاؤ سسرال والوں کے متعلق اچھا بتاؤ*
*بہت سی عورتیں اچھی ہیں جو اپنی بیٹیوں کو اچھے سے سمجھاتی ہیں لیکن معذرت کے ساتھ اکثر لڑکیوں کو ساس کا تعارف جیسے چڑیل کہہ کر کرایا جاتا ہے چاہے وہ بہت بہت اچھی عورت کیوں نہ ہو ۔*
*آخر میں اتنا کہ جو آپ دوسری عورت کے بارے میں سوچتی ہیں کیا وہ آپ اپنے بارے میں سوچتی ہیں ؟*
*یقیناً ایسا کوئی عورت نہیں سوچتی اپنے متعلق کیونکہ وہ ہمیشہ ایسی لڑکی کا انتخاب کرتی ہے جو گھر کو جوڑے اور اس کے بیٹے کو خوش رکھے، رشتوں میں اتحاد قائم کرے ۔ تو میری بہنوں یاد رکھنا دوسری عورتوں کی بھی یہی سوچ ہوتی ہے جو آپ کی ہے ۔*
*اور اگر طنز کرنا ہی مقصد ہو تو سسرال والے اچھی بہو نہیں بُری اور نکمی لڑکی کی تلاش کرتے تاکہ ان کا مقصد پورا ہوتا اور وہ جی بھر کر طنز کرتے ۔*
*صرف آج کی ماں کے لئے نہیں بلکہ میری تحریر ہر اس عورت کے لئے ہے جو کل کو ساس یا بہو بن سکتی ہے ۔*
*باقی اختلاف اور اتحاد آپ کا حق ہے ۔ جزاک اللہ*
