کہتےہے ایک جوان کعبہ کاطواف کررہاتھااوردرود شریف میں مشغول تھاکسی نےاس سےپوچھاتم کواس درودکاکچھ اثرمعلوم ہوا کہاہاں۔میں اورمیرےوالد حج کوچلےراستہ میں میرےوالد بیمارہوکرمرگئےان کا منہ کالا آنکھیں کرنجی ہوگئیں پیٹ پھول گیامیں رویااورکہا انا للہ واناالیہ راجعون میرے باپ مسافرت میں مرگئےاورایسےمرےجب رات ہوئی مجھ پر نیند نے غلبہ کیاخواب میں جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھاآپ نے سفیدکپڑےپہنےہوئےہیں عمدہ عطرکی خوشبوآرہی ہےحضورمیرےباپ کے پاس آئےاوران کےمنہ پرہاتھ پھیرا توان کاچہرہ دودھ سے زیادہ سفیداورروشن ہوگیا۔پھرپیٹ پرہاتھ پھیرا،جیساتھاویساہوگیا۔پھرحضرت نےجاناچاہا۔میں اٹھ کھڑاہوااورحضرت کی چادر مبارک پکڑکرعرض کیااے میرے سردارقسم اس ذات کی جس نے آپ کواس حالت مسافرت میں میرے باپ کے پاس بھیجا۔آپ کون ہے۔آپ نےفرمایاتومجھے نہیں پہچانتا۔میں محمدرسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔یہ تیراباپ بڑانافرمان گناہگارتھا۔مگرمجھ پردرودبہت بھیجاکرتاتھاجب اس پریہ مصیبت نازل ہوئی مجھ سے فریادکی۔میں اس کی فریاد کو پہنچااور میں ہرایک کا فریادرس ہوں جودنیا میں بکثرت مجھ پردرود بھیجتاہو۔
👈 *اگر آپ پڑھ چکے ہیں تو اپنے دوستوں کو اس پیغام سے محروم نہ رکھیں۔*
.jpg)