الجواب: ممنوع ہے۔ سیدی اعلی حضرت رحمۃ اللّٰہ علیہ نے فتاویٰ رضویہ جلد 21 میں اسکی بحث فرمائی ہے۔
فتاویٰ تتارخانیہ اور فتاویٰ ھندیہ میں ہے :
"یکرہ للمسلم الدخول فی البیعة والکنسیة وانما یکرہ من حیث انه مجمع الشیاطین۔"
”یہودیوں کی عبادت گاہ اور عیسائیوں کے گرجے (چرچ) میں کسی مسلمان کا داخل ہونا مکروہ ہے اس لئے کہ وہ شیاطین کے جمع ہونے کی جگہ ہے۔“
[فتاوٰی ھندیہ، کتاب الکراھیة، الباب الرابع عشر، جلد5، صفحہ 346، مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور]
بحرالرائق میں ہے :
"والظاھر انھا تحریمیة لانھا المرادۃ عند اطلاقم"
”ظاہر یہ ہے کہ کراہت سے کراہتِ تحریمی مراد ہے کیونکہ عندالاطلاق وہی مراد ہواکرتی ہے۔“
[ردالمحتار، بحوالہ بحرالرائق، کتاب الصلٰوۃ مطلب تکرہ الصلٰوۃ فی الکنسیة، جلد1، صفحہ 254، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت]
کفار کا مجمع ہر وقت محلِّ لعنت(یعنی لعنت برسنے کی جگہ) ہے تو اس سے دُوری ہی میں خیر و سلامتی ہے ولہذا علماء نے فرمایا کہ کفار کے محلہ سے گزرنا ہو تو جلدی جلدی تیزی کیساتھ گزر جائے۔
غنیہ ذوی الاحکام اور فتح اللہ المعین ، اور طحطاوی میں ہے :
"ھم محل نزول اللعنة فی کل وقت ولاشك انّه یکرہ السکون فی جمیع یکون کذٰلك بل وان یمر فی امکنتھم الا ان یھرول ویسرع وقد ردت بذٰلك اثار۔"
اس لئے کہ ہر وقت مقاماتِ کفار پر خدا کی لعنت برستی ہے۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسی مجلس (اور جگہ) میں ٹھہرنا مکروہ ہے (ناپسندیدہ امر) ہے بلکہ ان کے مقامات کے قریب جب کبھی گزرنا پڑے تو جلدی سے دوڑ کر گزرے ، چنانچہ آثار یہی وارد ہواہے۔
[درمختار، کتاب الحظر و الاباحة، فصل فی البیع، جلد2، صفحہ 247، مطبوعہ مجتبائی دہلی]
[فتاویٰ رضویہ (ملخصاً) ، جلد21، صفحہ 157، 161، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاھور]
.jpeg)