پ*💠 بزرگوں کا عقیدہ 💠*
*جب ابو لہب مر گیا تو اس کے بعض گھر والوں نے اسے خواب میں برے حال میں دیکھا*
پوچھا :
کیا ملا ؟
*بولا :* تم سے جدا ہو کر مجھے کوئی خیر نصیب نہیں ہوئی
*پھر اپنے انگوٹھے کے نیچے موجود سوراخ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا :*
سوائے اس کے کہ اس میں سے مجھے پانی پلا دیا جاتا ہے کیونکہ میں نے *ثویبہ لونڈی کو آزاد* کیا تھا
*( مصنف عبدالرزاق جلد 9 صفحہ 9 حدیث 16661 و عمدۃ القاری جلد 14 صفحہ 44 تحت الحدیث 5101 📚)*
*حضرت سیدنا علامہ بدر الدین عینی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :*
اس *اشارے کا مطلب* یہ ہے کہ مجھے تھوڑا سا *پانی* دیا جاتا ہے
*( عمدۃ القاری ایضاً 📚)*
اس روایت کے تحت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
*اس واقعہ میں میلاد شریف منانے والوں کیلئے بڑی دلیل ہے جو تاجدارِ انبیاء تاجدارِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی شب ولادت میں خوشیاں مناتے ہیں اور مال خرچ کرتے ہیں*
یعنی ابو لہب جو کہ کافر تھا
*جب وہ تاجدارِ ختم نبوت خاتم النبیین رحمۃ اللعالمین جناب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی خبر پا کر خوش ہونے اور اپنی لونڈی ثویبہ کو دودھ پلانے کی خاطر آزاد کرنے پر بدلہ دیا گیا تو اس مسلمان کا کیا حال ہو گا جو محبت اور خوشی سے بھرا ہوا ھے اور مال خرچ کر رہا ہے لیکن یہ ضروری ہے کہ محفل میلاد شریف گانے باجوں سے آلات موسیقی سے پاک ہو*
*( مدارج النبوت جلد 2 صفحہ 19 📚 )*
*لفظ عید کی تحقیق 📜*
*اسلام میں صرف دو عیدیں کہنے والوں کو امام الوہابیہ کا جواب شیخ ناصر البانی لکھتے ہیں :*
اسلام میں *تین عیدیں* ہیں *جمعۃُ المبارک* بھی *عید* ہے ۔
( فتاویٰ البانیہ صفحہ نمبر 245 )
*وہابیو اب جواب دو سال میں کتنی عیدیں بنتی ہیں ؟*
*القرآن سورہ المائدہ آیت نمبر3 کے تحت ھے*
کہ جب حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے *سورہ مائدہ کی آیت نمبر 3* تلاوت فرمائی *تو ایک یہودی نے کہا "*
اگر یہ آیت ہم پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو *عید* مناتے
*اس پر حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا :*
یہ آیت نازل ہی اس دن ہوئی جس دن دو عیدیں تھیں
*(مشکوۃ شریف 121 📚)*
*مرقات شرح مشکوۃ میں اس حدیث کے تحت طبرانی وغیرہ کے حوالے سے بالکل یہی سوال و جواب حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے بھی منقول ھے 📚*
*👈 مقام غور ھے کہ دونوں جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے یہ نہیں فرمایا کہ :*
*اسلام میں صرف عید الفطر و عید الاضحٰی مقرر ھے اور ہمارے لئے تیسری عید منانا بدعت ہے و ممنوع ہے بلکہ یوم جمعہ کے علاوہ یوم عرفہ کو بھی عید قرار دے کر واضح فرمایا کہ واقعی جس دن اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی خاص نعت عطا ھو خاص اس دن بطور یادگار عید منانا شکر نعت اور خوشی و مسرت کا اظہار کرنا جائز اور درست ہے*
*👈 علاوہ ازیں جلیل القدر محدث ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس موقع پر یہ بھی نقل فرمایا کہ "*
ہر خوشی کے دن کے لئے *لفظ عید* استعمال ہوتا ہے
*الغرض جب جمعہ کا عید ہونا ،*
*عرفہ کا عید ہونا ،*
*یوم نزول آیت کا عید ہونا ،*
*ہر انعام و عطا کے دن کا عید ہونا اور ہر خوشی کے دن کا عید ہونا واضح ہوگیا تو اب ان سب سے بڑھ کر یوم میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عید ہونے میں کیا شک و شبہ رہ گیا جو سب کی اصل و سب مخلوق سے افضل ھے*
*لیجئے قرآن کی تائید :*
القرآن پارہ 7 رکوع 5 سورہ المائدہ آیت 114
*ترجمہ کنزالایمان*
عیسی بن مریم نے عرض کی اے اللّٰہ اے رب ہمارے ہم پر آسان سے ایک خوان (مائدہ) اتار کہ وہ دن ہمارے لئے *عید* ھو جائے اگلوں اور پچھلوں کی
سبحان اللہ ! *جب مائدہ اور من سلوی جیسی نعمت کا دن عید کا دن قرار پایا تو سب سے بڑی نعمت یوم ولادت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے عید ہونے میں کیا شک رہا ؟*
*💠 محدثین کا بیان 💠:*
امام احمد بن محمد قسطلانی ، علامہ محمد بن عبدالباقی زرقانی، اور شیخ محقق علامہ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے یہ دعائیہ بیان نقل فرمایا :
*فرحم اللہ امراء اتخذ لیا لی شھر مولدہ المبارک اعیادا*
ترجمہ :
*اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جو اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ماہ میلاد کی راتوں کو عیدوں کی طرح منائے*
*( زرقانی شرح مواہب جلد 1 صفحہ 139 ماثبت من السنۃ صفحہ 60 📚)*
دیکھئے ایسے *جلیل القدر محدثین* نے نہ صرف ایک دن بلکہ *ماہ میلاد ربیع اول* کی *سب راتوں کو عید* قرار دیا اور *عید میلاد النبی* منانے والوں کے لئے *دعائے رحمت* بھی فرمائی ھے جس دن کی برکت سے ربیع الاول کی راتیں بھی عیدیں قرار پائیں 12 ربیع الاول کا وہ خاص دن کیونکر عید قرار نہ پائے گا ؟
*بلکہ امام داؤدی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ مکہ مکرمہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی جگہ مسجد حرام کے بعد سب سے افضل ہے اور اہل مکہ عیدین سے بڑھ کر وہاں محافل کا اہتمام کرتے تھے*
*" حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس مبارک جگہ محفل میلاد میں حاضری اور مشاہدہ انوار کا ذکر فرمایا "*
*( جواہر البحار جلد سوم صفحہ 1184 فیوض الرحمان صفحہ 27 📚 )*
*💠 مفسرین کا اعلان 💠:*
*° امام حجر مکی رحمۃ اللہ علیہ نے امام فخر الدین رازی (صاحب تفسیر کبیر)* سے نقل فرمایا کہ :
*جس شخص نے میلاد شریف کا انعقاد کیا اگرچہ عدم گنجائش کے باعث صرف نمک یا گندم یا ایسی ہی کسی چیز سے زیادہ تبرک ( لنگر) کا اہتمام نہ کر سکا برکت نبوی سے ایسا شخص نہ محتاج ہوگا نہ اس کا ہاتھ خالی رہے گا*
( النعمۃ الکبری صفحہ 9)
*° مفسر قرآن علامہ اسماعیل حقی نے امام سیوطی، امام سبکی، امام ابن حجر عسقلانی امام حجر ہیتمی امام سخاوی علامہ ابن جوزی جیسے اکابر علماء و آئمہ کرام سے میلاد شریف کی اہمیت نقل فرمائی اور لکھا کہ:*
میلاد شریف کا انعقاد *آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم* کے لئے ھے اور *اہل اسلام ہر جگہ ہمیشہ میلاد شریف* کا اہتمام کرتے ہیں
*( تفسیر روح البیان جلد 9 صفحہ 56 📚 )*
جاری ہے ۔ ۔ ۔ ۔
*🌹منتخب اردو تحریریں🌹*
.jpeg)