اویس قرنی رضی اللہ عنہ محبوب خدا کو قافلے والوں کے ہاتھ عرضی بھیجا کرتے تھے کہ محبوب دیوانہ ملنے کو بے تاب ہے ، اجازت عنایت فرمائیں تا کہ قرن کی بستی کو چھوڑوں اور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں زندگی کو جینے کا قرینہ بخش سکوں ۔
مگر ہر دفعہ کی طرح ایک ہی جواب آتا کہ اویس بوڑھی ماں کو چھوڑ کے نہیں آنا ہم یہاں نہ ملے تو جنت میں ضرور ملیں گے ۔ اطاعت کے پیکر اویس بھی سر تسلیم خم کر دیتے ۔ ملاقات کی خواہش کے جنون کو ملنے کے یقین کی چادر اوڑھ کر راحت بخشتے کہ یہاں نہیں تو جنت میں تو شرف ملے گا ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کس کمال سے امت کو دو پیغام دئیے کہ فاصلے معنی نہیں رکھتے محبت کے چراغ کو ٹھنڈا نہ پڑنے دو ۔ اطاعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ہی زندگی کا نصب العین بناو۔ اپنی خواہشات کو سر نہ اٹھانے دو ۔ سر تسلیم خم کر کے زندگی کو اسوہ حسنہ کی رسی سے باندھ لو جنت میں ملاقات تو ضرور ہو گی ۔
دوسرا پیغام دیا کہ بوڑھے والدین کی خدمت کے لیے اپنے ارادے ، اپنے جذبے ، اپنے آپ کو وقف کر دو ۔ اف تک نہ کہو ۔ سہارا بنو اسی طرح جس طرح بچپن میں وہ انگلی تھامے تمہیں جینے کے ڈھنگ سکھاتے تھے ۔
ادھر ایک بلال تھے ۔ میں بلال لکھتا ہوں تو فرط محبت سے آنکھیں بھر آتی ہیں۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ
ہائے عمر فاروق بھی عقیدت سے کہا کرتے تھے کہ میرا سردار بلال کہاں ہے ۔ یہ رتبے یہ شان میں قربان
چلتے زمین پر قدموں کی چاپ جنت میں۔ موذن رسول بلال رضی اللہ عنہ
کیسے ملے یہ مرتبے یہ مقام یہ فضیلتیں یہ شان
بلال اتنا جو ظلم سہتے ہو احد احد آہستہ کہہ لیا کرو ۔ کیوں اسی تپتی ریت پی سلوں کے نیچے جھلستے رہتے ہو ۔ چربی اور خون پگھل پگھل کر کوئلوں کو ٹھنڈا کر دیتا ہے ۔ مگر آپ کی احد احد کی صدا بلند ہی ہوتی جاتی یے ۔
سیدنا بلال بولے تو کہنے لگے حضور یا تو پہلے محبت کے قرینے نہیں سکھانے تھے اگر اب ہم اپنا چکے تو یہ مصلحتیں ہم سے نہ ہوں گی انکو اذیت ملتی ہے اس کلمے سے تو میں ورد اور بھی زیادہ کروں گا مگر اب کوئی مصلحت اس دل کو قبول نہیں۔
پھر تپتی ریت ، پتھر کی سلیں ، کوئلے، یہاں تک کہ ظلم و ستم سب شرما گئے ہار گئے مگر میرے بلال عزم و ہمت کی چٹان بنے اپنے موقف پہ ڈٹے رہے ۔
حق پہنچ گیا ۔ تسلیم کر لیا ۔ اپنا لیا تو پھر کمپرومائز، مصلحت، کوئی خوف ، کوئی ڈر کوئی معنی نہیں رکھتا ۔
جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے، یقیناً اُن پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ "نہ ڈرو، نہ غم کرو، اور خوش ہو جاؤ اُس جنت کی بشارت سے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے
سورہ حم السجدہ آية ۳۰
یہی وہ سب تھا جس پہ کسی شاعر نے کہا کہ
میرے قلب کو بھی نصیب ہوں تیری ذات سے وہی نسبتیں
وہ جو عظمتیں تھی اویس کی, وو جو رابطے تھے بلال کے !!
.jpeg)