آصف بشیر چوہدری ایک رپورٹر ہیں اور پارلیمنٹری رپورٹرز ایسوسی ایشن کے سیکریٹری ہیں۔۔۔ اس کے علاوہ نیشنل پریس کلب کے سابقہ سینیئر وائس پریزیڈنٹ بھی ہیں۔۔۔ انہوں نے حساس ادارے کے ایک افسر کا سکینڈل بے نقاب کیا جو کہ نواز شریف کے کیسز کو ڈیل کرنے والے احتساب عدالت کے جج سے ملاقات کے بعد وہاں سے نکل رہے تھے تو ان کے کیمرے کی زد میں آ گئے۔۔۔ اور آصف بشیر چوہدری نے یہ ویڈیو پبلک کر دی۔۔۔ اور سوشل میڈیا پر ڈال دی۔۔۔ میں یہ ویڈیو اپنے اکاونٹ سے ایک اور پوسٹ میں شائع کر چکا ہوں۔۔۔۔
اس کے بعد ان کے ساتھ اور ان کے خاندان کے ساتھ جو ہوا۔۔۔ وہ صحافی آصف بشیر چوہدری کی ہی زبانی سنیئے
کچھ عرصہ قبل میں نے ایک ویڈیو سکینڈل بریک کیا جس میں ایک حساس ادارے کا اعلیٰ افسر احتساب عدالت میں نواز شریف کے مقدمات سننے والے جج سے ملاقات کر کے باہر نکلا اور میرے کیمرے کی زد میں آ گیا۔۔۔ میرے سوالوں کے جواب دینے کے بجائے اسائنمنٹ ڈائری کے پیچھے منہ چھپا لیا۔۔۔
افسر تو چلا گیا مگر میرے لیے کرب و بلا کے پہاڑ کھڑے ہو گئے ظالموں نے میری ماں کو فون پر ایسا دھمکایا کہ میرے لاکھ انکار کے باوجود ماں معاملے کی نزاکت بھانپ گئی۔۔۔ بلڈ پریشر کی مریض والدہ کو شام ڈھلے برین ہیمبریج ہو گیا ڈاکٹرز نے جان تو بچا لی لیکن پھر بستر سے اٹھ نہ سکی
مجھے لگا تھا ملک کی تقدیر کے فیصلے کرنے والے خفیہ ہاتھ کیمرے کے سامنے لے آیا ہوں اب ملک میں آئین اور سویلین بالادستی کی جدوجہد کو تقویت ملے گی اور آزادی اظہار رائے کا مقدمہ مزید مضبوط ہو گا لیکن وقت نے کچھ اور ہی ثابت کیا، ان تمام میدانوں میں ریت ہمارے ہاتھوں سے سرک گئی
اب بستر پر پڑی 75 سالہ ماں جھریوں بھرے چہرے پر آنکھوں کو سکیڑ کر جب کبھی کمزور آواز میں پوچھتی ہے بیٹا کیا بنا تیری آئین اور جمہور کی بالادستی کی لڑائی کا؟۔۔۔۔۔ تو میری گردن جھک جاتی ہے_پھر وہ خود ہی تھپکی دے کر کہتی ہیں۔۔۔۔ "بیٹا جدوجہد جاری رکھو میں کبھی نہ سنوں تو پیچھے ہٹ گیا"
گھر سے نکلتے ماں جب تھپکی دیتے مجھے دعا دیتی ہے تو شدید احساس ہوتا ہے کہ سویلین بالادستی کے میرے جذبات کی قیمت میری ماں بھی چکا رہی ہے_ ماں کا مجرم میں ہی ہوں۔۔۔۔ میری ایک ماں میری سرزمین بھی تو ہے۔۔۔۔ ایک ماں کے حق کے لیے لڑتے دوسری ماں لاچار ہو گئی ___ یہ میرا سب سے بڑا غم ہے۔۔۔۔
میں ماں کو یہ بتانے کی ہمت نہیں رکھتا کہ سویلین بالادستی کی لڑائی میں یہ مقام آ گیا ہے کہ اب ماں کو ابا جی کے پہلو میں دفنانے کی انکی آخری خواہش بھی پوری نہیں کر سکوں گا کیونکہ سٹیشن ہیڈ کوارٹر نے ویسٹریج کے ہمارے قدیمی قبرستان میں سویلین کی تدفین پر پابندی عائد کر دی ہے۔۔۔۔
کہنے کو تو میں مملکت خداداد پاکستان کا آزاد شہری ہوں اور آئین کے تحت حاصل حقوق کے تحت زندگی گزار رہا ہوں لیکن یوں لگتا ہے حضرت جون ایلیاء نے برزخ سے ابھی مجھے جھانکا اور پھر میری ماں کی بے بسی دیکھ کر جیسے گویا ہوئے___!
جو گزاری نہ جا سکی ہم سے ____ ہم نے وہ زندگی گزاری ہے
الفاظ بہ تحریر ۔۔۔۔۔ آصف بشیر چوہدری
راقم الحروف
(اختر عباس مگھیانہ سیال)
.jpeg)