ایک عالم صاحب سے کسی نے میلاد کے بارے میں دلیلیں مانگیں تو عالم صاحب تڑپ اٹھے اور عاشقانہ جواب دیا کے جب ہمارے پیارے نبیﷺ اس دنیا میں آۓ تب بھی ہمیں یاد کیا جب اس دنیا سے ظاہری پردہ فرمایا تب بھی ہمیں یاد کیا دنیا میں رہے ساری عمر ہمیں یاد کیا غم امت میں راتیں گزاریں غم امت میں میرے پیارے آقاﷺ اشک بہاتے رہے معراج پر جب گۓ تب بھی ہمیں یاد کیا ہمارے لیے اپنے رب سے دعاٸیں کرتے رہے غرض یہ کہ ہر مقام پر امتی امتی کہا حتی کے کل قیامت کے دن جب نفسا نفسی کا عالَم ھوگا اس وقت بھی ہمارے پیارے آقاﷺ ہمیں یاد کرتے ہوں گے ہمارے پیارے آقاﷺ ہم سے اتنا پیار کریں اور ایک تم ہو کے آج اپنے نبی کے ذکر کے لیے دلیلیں مانگ رہے ہو یہ کہاں کی عقلمندی ہے کے محبوب کے ذکر کے لیے بھی آپ کو دلیلیں چاہییں ہمارے پیارے آقاﷺ نے فرمایا من احب شیٸا اکثر ذکرہ جو کسی سے محبت کرتا ہے تو کثرت کے ساتھ اس کا ذکر کرتا ہے الحَمْدُ ِلله ہم اپنے نبی پاک سے دل و جان سے بڑھ کر محبت کرتے ہیں اور کثرت سے آپکا ذکر بھی کرتے ہیں اور اسی ذکر کے سلسے میں ہم اپنے آقاﷺ کا میلاد کرتے ہیں اس لیے کے میلاد میں تو صرف آپﷺ کا ہی ذکر ھوتا ہے اور ہم اپنے پیارے آقاﷺ کے ٹکڑوں پر پل رہے ہیں تو اسی لیے ہمارے امام اعلی حضرت نے فرمایا
*جو نہ بھولا ہم غریبوں کو رضا*
*ذکر ان کا اپنی عادت کیجیے*
اور
*حشر تک ڈالیں گے ہم پیداٸشِ مولا کی دھوم*
*مثلِ فارس نجد کے قلعے گراتے جاٸیں گے*
*خاک ہو جاٸیں عدو(دشمن) جل کرمگر*
*ہم تو رضا دم میں جب تک دم ہے*
*ذکر ان کا سناتیں جاٸیں گے*
.jpeg)