سُرمہ سو تے وقت اِسْتِعْمال کرنا سُنَّت ہے ۔
📓 (مرآۃالمناجیح ،۶/۱۸۰)
سُنَنِ ابنِ ماجہ کی روایت میں ہے ” تمام سُرموں میں بہتر سُرمہ ”اِثْمِد“(اِث۔مِد) ہے کہ یہ نگاہ کو روشن کرتا اور پلکیں اُگا تا ہے ۔
📙(ابن ماجہ، ۴/ ۱۱۵ ،حدیث: ۳۴۹۷)
*▪️سُرمہ اِسْتِعْمال کرنے کے تین (3)منقول طریقوں کاخُلاصہ پیشِ خدمت ہے:* (1)کبھی دونوں آنکھوں میں تین تین سَلائیاں
(2) کبھی دائیں (یعنی سیدھی ) آنکھ میں تین اور بائیں (یعنی اُلٹی) میں دو،
(3)تو کبھی دونوں آنکھوں میں دو دو اور پھر آخِر میں ایک سَلائی کو سُرمے والی کر کے اُسی کو باری باری دونوں آنکھوں میں لگائیے
📘(شُعَبُ الْاِیمان ، ۵ / ۲۱۸ - ۲۱۹)
اس طرح کر نے سے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ تینوں پر عمل ہوتا رہے گا۔
یاد رکھئے ! تکریم کے جتنے بھی کام ہوتے سب ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سیدھی جانب سے شرو ع کِیا کرتے، لہٰذا پہلے سیدھی آنکھ میں سُرمہ لگائیے پھر اُلٹی آنکھ میں۔۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
.jpeg)