*یہ دوا ڈینگی بخار جیسی خطرناک بیماری کا منہ توڑ علاج ھے*
*ڈینگی بخارماضی قریب میں پاکستان میں متعدد مرتبہ وبائی شکل اختیار کرکے بڑی تعداد میں مریضوں کی ھلاکت کا سبب بنتا رھا ھے لیکن ڈینگی بخار میں ھومیوپتھک دواؤں کا استعمال خون میں platelets کی گرتی ھوئی تعداد کو فوری طور پرنارمل کرکے ڈینگی کے مریضوں کو ھمیشہ کامیابی سے ھمکنار کرنے کا کامیاب مظاھرہ کرتا رھا ھے*
*ڈینگی بخار کی تشخیص ھونے کی صورت میں فوری طور پر مریض کو ھومیوپتھک دوا یوپٹوریم پرفولی (Eupatorium perfoliatum) ایٹم کی 200 پوٹینسی کے تین قطرے پانی میں دونوں دوائیں ایک ساتھ ملا کر صبح دوپہر شام استعمال کرائیں، ان دونوں دواؤں کے استعمال کے بعد ایک سے دو دن کے اندر اندر ڈینگی بخار اپنی تمام تر پیچیدگیوں کے ساتھ پوری طرح ٹھیک ھوجاتا ھے*
*نا مناسب علاج بد احتیاطیوں اور تاخیر کی صورت میں ڈینگی بخار کبھی کبھی جان لیوا خونی بخار (haemorrhagic fever) کی شکل اختیار کرلیتا ھے اور خون آنا شروع ھوجائے تو صرف کروٹیلس ھور (crotallus hor 200) نامی دوا اس مرحلے میں انسانی جان بچانے میں کامیاب ھوتی ھے جسکی صرف دو تین خوراک اس مرحلے میں کافی ثابت ھوتی ھیں*
*کمر توڑ مہنگائی اور پریشانی کا زمانہ ھے یہاں میں عرض کرتا چلوں کہ کسی بھی بخار نزلہ زکام کھانسی کی ابتدا ھوتے ھی اگر دو ھومیوپیتھک دواؤں (Bryonia 200) اور (Aconite 200) کے دو دو قطرے پانی میں ملا کر صبح شام استعمال کرینگے تو کسی بھی قسم کا بخار فورآ دور ھوجاتا ھے، کسی ٹیسٹ یا مزید علاج کی نوبت ھی نہیں آنے پاتی یہ آسان ان لوگوں کے لئے تحفہ ھے جو محض نزلہ زکام کھانسی بخار کے لئے بھی علاج کی استطاعت نہیں رکھتے، دونوں دواؤں کے کوئی سائیڈ ایفیکٹس نہیں ھیں نہ ھی یہ دوائیں ایکسپائر ھوتی ھیں اگر دھوپ اور ریفریجریٹر میں نہ رکھی جائیں*
*ضروری بات*
_اس پوسٹ میں شامل تمام مواد کا مقصد صرف معلومات فراہم کرنا ہے اور اسے طبی مشورے کے طور پر نہیں لیا جانا چاہئے۔ قارئین کو صحت سے متعلق کسی بھی معاملے کے بارے میں صحت سے متعلق متعلقہ پیشہ ور افراد سے رابطہ کرنا چاہئے۔_
.jpeg)