آج شام باہر نکلا تو ایک چٹائی فروش نے گزرتے ہوئے پانی کی فریاد کی۔ میں ایک بچے کو پانی لینے بھیجا۔اتنے میں اس نے بھاری چٹایاں کندھوں سے اتار کر نیچے رکھی اور کندھوں کو دبا کر ریلیکس کرنے لگا۔ شاید تھک گیا تھا۔ میں نے کچھ حال احوال پوچھا اور تھوڑی خوش گپیاں شروع کر دی۔ کہ شاید میرے دو بول سے صبح کا تھکا ہارا بندا کچھ اچھا محسوس کرنے لگے۔
اتنے میں پانی آ گیا۔ اور میں نے ان سے چٹائی والی گٹھی اٹھانے کی اجازت چاہی۔ تاکہ وزن کا اندازہ لگایا جا سکے۔ کہ کیسے یہ لوگ رزق حلال کی خاطر گلی گلی مشقت طلب گٹھری اٹھائے لیے پھرتے ہیں۔
پہلے پہل تو یہ گٹھری بہت زیادہ وزنی محسوس نا ہوئی۔ مگر چند منٹ گزرنے کے ساتھ جب کندھے کے ساتھ بندھی رسیاں چبنی شروع ہوئی۔ تو احساس ہوا، کہ انہیں اٹھائے پھرنا اتنا بھی آسان کام نہیں۔ سارا دن لیے گھومنا انکی ہی ہمت ہے!
*اور پھر جب اپنی ذات کی طرف دیکھا۔ اور سوچا کہ کیا ہمیں اپنے رب کا شکر گزار نہیں ہونا چاہیے۔ کہ اس نے ہمارا رزق کتنا ہی کم مشقت طلب کاموں میں رکھا ہوا ہے۔ اگر میں اسکی جگہ ہوں، تو آخر کتنے دن یہ کام سر انجام کر پاوں گا !*
*ورنہ، ہم میں ایسے کیا پھول بوٹے لگے تھے، جو اس نے ہمیں یہ آسانیاں دی۔وہ چاہتا تو ہم ان کی جگہ ہوتے، اور وہ ہماری جگہ۔ سو جب بھی ایسے لوگوں سے واسطہ پڑے، زیادہ نہیں تو کم سے کم انکا حال احوال پوچھ لیا کریں۔ تھوڑا پانی پلا دیا کریں۔ اچھے سے پیش آ جایا کریں۔ اسی سے یہ بہت خوش اور اچھا محسوس کرنے لگتے ہیں*
*اور اگر آسان رزق و دولت سے رب نواز دے۔ تو اُس پر تکبر کرنے کی بجائے مزید جھک جایا کریں۔ کہ مالک تیری کرم نوازی ہے،۔ ورنہ میری یہ اوقات کہاں اور اپنے ارد گرد مستحق لوگوں کی مدد کرتے رہیں۔ تا کہ، تکبر اور رزق بانٹنے جیسے دونوں امتحانوں میں ہم با آسانی پاس ہو سکیں۔*
*میرا رب ہم سب کے کے لئے آسانیاں فرمائے*
*خوش رہیے، خوش رکھیے*
منقول
.jpeg)