*20 صفر المظفر یومِ عرس حضرت داتا گنج بخش علی بن عثمان ہجویری رحمۃ اللّٰہ علیہ*
داتا حُضُور رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ کم و بیش 400 ہجری کو دُنیا میں تشریف لائے۔
آپ کا اسمِ گرامی علی بن عثمان ہے۔
آپ افغانستان کے ایک علاقے غزنی کے رہنے والے ہیں۔
غزنی کا ایک محلہ ہے: ہجویر۔ داتا حُضُور رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ اس محلے میں رہتے تھے، اسی نسبت سے ہجویری کہلائے۔
داتا حُضُور رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ نَجِیْبُ الطَّرَفَیْن یعنی حسنی، حسینی سید ہیں۔
آپ ابتداء ہی سے بڑے نیک پارسا، عِبَادت کرنے والے اور عِلْمِ دِین کا بہت شوق رکھنے والے تھے۔
داتا حضور رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ نے عِلْمِ دین سیکھنے کے لئے عراق، شام، لبنان، آذربائیجان، خُراسان اور تُرْکِستان وغیرہ کئی ممالک کا سَفَر فرمایا، اس وقت کے بڑے بڑے عُلَما اور صُوفیائے کرام سے عِلْمِ دِیْن سیکھا۔
تقریباً 34 سال کی عمر مبارک میں اپنے پِیر صاحب شیخ ابو الحسن خُتَّلی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ کے حکم سے لاہور تشریف لائے۔
یہاں نیکی کی دعوت کو عام کیا، دِینِ اسلام کا پیغام پھیلایا، لوگوں کو قرآن و سُنَّت کی تعلیم دی، اپنے اَخْلاق سے، کردار سے، کبھی بیانات فرما کر، کبھی کرامات دکھا کر بےشُمار کافِروں کو مسلمان کیا، جو پہلے سے مسلمان تھے، انہیں سُنَّتوں کا پیکر بنایا، کئی عالِم بنائے، کئی لوگوں کو اپنی تربیت میں رکھ کر وِلایَت کے بلند مقامات تک پہنچایا۔
کم و بیش 30 سال کے عرصے میں آپ نے بَرِّصغیر میں ایک انقلاب برپا کر دیا۔
پختہ قول کے مطابق آپ نے 465 ہجری کو اس دُنیا سے پردہ فرمایا۔
آپ کا مزار مبارک لاہور میں ہے۔ آپ ہی کی نسبت سے لاہور کو مرکزُ الْاَولیا اور داتا نگر بھی کہا جاتا ہے۔
*حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللّٰہ علیہ کی سیرت کے بارے میں مزید پڑھنے کے لئے فیضانِ داتا علی ہجویری کا مطالعہ کریں۔*
.jpeg)