زکا وائرس دنیا کے مختلف حصوں میں خوف کی علامت بنا ہوا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ اس کا شکار ہونے والی عورتوں میں چھوٹے سر والے بچوں کی پیدائش ہے۔ اگرچہ آج کل اس مسئلے پر ذرائع ابلاغ میں زیادہ توجہ نہیں دی جارہی لیکن مختلف ممالک میں اس کے پھیلنے کا خطرہ موجود ہے۔ خیال رہے کہ ابھی تک زکا وائرس کا کوئی علاج دریافت نہیں ہوسکا تاہم زکا وائرس پھیلانے والے مچھروں کی آمد کے موقع پر احتیاط اس سے بچا سکتی ہے۔
*زکا وائرس کیا ہے؟*
زکا وائرس مچھر کی مدد سے اس وقت منتقل ہوتا ہے جب وہ متاثرہ فرد کو کاٹنے کے بعد دوسرے فرد کو کاٹتا ہے۔ تاہم یہ غیر محفوظ جسمانی تعلق سے بھی منتقل ہو سکتا ہے۔ یہ حاملہ عورت سے اس کے بچے کو بھی منتقل ہوجاتا ہے۔
*زکا وائرس سے صحت کے مسائل:*
زکا وائرس کی وجہ سے موت واقع ہونا انتہائی کم ہے لیکن اس سے صحت کو سنگین خطرات ضرور لاحق ہوتے ہیں۔ ان میں سب سے اہم پیدائشی نقائص ہیں۔ اگر حمل کے دوران عورت اس کا شکا رہو جائے تو پیدا ہونے والے بچے میں نقائص ہو سکتے ہیں ان میں بچے کا سر غیر معمولی طور پر چھوٹا ہونا اور دماغی خامیاں شامل ہیں۔ سر کے چھوٹا ہونے کی وجہ رحم میں دماغی ٹشوز کی نشوونما میں کمی یا ان کی بربادی ہوتی ہے۔ اس سے بچے کی جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں پر منفی اثر پڑتا ہے۔ اسے سننے، سیکھنے اور دیکھنے میں مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ ضروری نہیں کی زکا وائرس کی شکار پر ماں کے ہاں چھوٹے سر والے بچے کی پیدائش ہو۔ اس وائرس کی شکار ماؤں کا حمل گرنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ زکا وائرس کی شکار ماؤں کے ہاں ایسے بچے بھی پیدا ہو سکتے ہیں جو بظاہرصحت مند نظر آئیں،لیکن آئندہ سالوں میں انہیںذہنی نشوونما سے متعلق مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔
زکا وائرس سے مردوں کی تولیدی صلاحیت پر منفی اثرات مرتب ہونے کے شواہد ملے ہیں۔ زکا وائرس سے ’’گولین بارے سنڈروم‘‘ ہوتا ہے۔ اس بیماری میں جسم کا مدافعتی نظام اعصابی خلیوں پر حملہ آور ہوتا ہے جس سے عضویاتی کمزوری ہوتی ہے اور بعض اوقات جسم حرکت کرنے سے معذور ہو جاتا ہے۔
*علامات* :
بہت سے لوگوں میں زکا وائرس کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں اور انہیں احساس تک نہیں ہوتا کہ ان کے جسم میں یہ خطرناک وائرس پہنچ چکا ہے۔ اگر علامات ظاہر ہوں تو بھی زیادہ شدید نہیں ہوتی اور وہ ایسی ہوتی ہیں کہ جو دوسری بیماریوں میں بھی پائی جاتی ہیں۔ ان میں بخار کا ہونا، جلد سرخ ہونا یا سردرد شامل ہے۔ زکا وائرس کی تصدیق کے لیے خون یا پیشاب کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔
علاج:بدقسمتی سے تاحال زکا وائرس کے لیے کوئی دوا دستیاب نہیں۔ زیادہ تر لوگوں میں اس وائرس کی علامات کا خاتمہ ایک ہفتے کے دوران ہو جاتا ہے۔ علاج اور ویکسین بنانے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
*بچاؤ:*
ایسے علاقوں کا سفر کرنے سے حتی الامکان گریز کرنا چاہیے جہاں زکا وائرس کی وبا پھیلی ہو۔ خود کو مچھروں سے بچانا چاہیے۔ اس سلسلے میں پورے کپڑے پہننے چاہئیں اور مچھر بھگاؤ لوشن لگانا چاہیے
*ضروری بات*
_اس پوسٹ میں شامل تمام مواد کا مقصد صرف معلومات فراہم کرنا ہے اور اسے طبی مشورے کے طور پر نہیں لیا جانا چاہئے۔ قارئین کو صحت سے متعلق کسی بھی معاملے کے بارے میں صحت سے متعلق متعلقہ پیشہ ور افراد سے رابطہ کرنا چاہئے۔_
.jpeg)