چونکہ عورتوں کو ان کے ظاہری شکل و صورت کی وجہ سے پسند کیا جاتا ہے، بچیاں پیدا ہوتیں ہیں تو وہ بچاری اپنے ظاہر کو آراستہ کرنے پہ لگی ہوتیں ہیں ان کی ہر وقت یہی سوچ ہوتی ہے کہ میں کپڑے ایسے پہنوں کہ میں اچھی لگوں، میری آنکھیں اچھی لگیں چہرہ اچھا لگے ہاتھ اچھے لگیں، بیچاریاں ہر وقت اسی سوچ میں رہتی ہیں کیونکہ ان کو پتہ ہوتا ہے کہ ہمیں زندگی کا ساتھی اسی معیار کی وجہ سے بنایا جائے گا۔
معلوم ہوا مردوں کی اس سوچ نے عورتوں کی زندگی کا رخ بدل دیا اگر ان کو پتہ ہوتا ہمیں ہماری دینداری کی وجہ سے زندگی کا ساتھی بنایا جائے گا تو یہ حدیث پڑھتیں، تفسیر پڑھتیں یہ اچھے اخلاق بناتیں، یہ اپنی عزت و ناموس کی حفاظت کرتیں، یہ باپردہ زندگی گزارتیں، تہجد گزار بنتیں، ان کو کوئی زندگی کا ساتھی بنا لیتا مگر معیار ہی بدل گیا۔
معیار ظاہری خوبصورتی ہے لہٰذا بچیوں کو دیکھا بے چاری پیدا ہوتی ہیں تو اس وقت سے اس سوچ میں ہوتی ہیں کوئی ایسی صورت اختیار کریں کہ ہم دیکھنے والوں کو اچھی لگ سکیں اور یہی چیز بلا آخر ان کو بے پردگی پہ بھی آمادہ کر دیتی ہے جن کو اللہ نے کچھ شکل اچھی دے دی تو وہ خوشی خوشی بے پردہ پھرتی ہیں، لوگ مجھے دیکھیں گے سوچیں گے یہ کتنی خوبصورت ہے، دیکھئے بے پردگی بھی اسی وجہ سے ہوئی، فیشن پرستی بھی اسی کی وجہ سے ہوئی اور عورت کی دین سے دوری بھی اسی کی وجہ سے ہوئی کہ مردوں نے کسوٹی کیا بنالی عورت کو خوبصورت ہونا چاہئے۔
*خوبصورت کی بجائے پہلے خوب سیرت ہونا چاہئے، اس کے اندر نیکی ہونی چاہئے اچھے اخلاق ہونے چاہئے اگر مرد اپنی زندگی کی ترتیب کو بدل لیں اور نیک سیرت بیوی کو ڈھونڈنا شروع کر دیں تو دیکھنا یہ عورتیں جو آج فیشن ایبل کہلاتی ہیں یہ سب سے بڑی تہجد گزار بن جائیں گی، نیکو کار بن جائیں گی اور ماحول کے اندر نیکی آجائے گی، اللہ رب العزت ہمیں نیکی پر زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمادے۔*
.jpeg)