تابعی بزرگ حضرت شعبی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:
(سلطنت بنو امیہ کا گورنر) زیاد کے غلام و دربان عجلان نے مجھے بتایا کہ:
*زیاد جب گھر سے نکلتا تو میں اس کے آگے آگے مسجد تک جاتا۔ مسجد میں داخل ہونے کے بعد بھی اس کی نشست گاہ تک آگے آگے ہی چلتا۔ ایک دن وہ نشست گاہ میں داخل ہوا تو ایک بلی کو دیکھا جو گھر کے ایک کونے میں بیٹھی تھی۔ میں اسے بھگانے کے لیے گیا تو زیاد نے کہا اسے چھوڑ دو، دیکھیں کیا کرتی ہے۔ پھر اس نے ظہر کی نماز پڑھی اور لوٹ آیا اور پھر ہم عصر پڑھ کر نشست گاہ لوٹے تو بلی کو وہیں موجود پایا، غروب شمس سے تھوڑا پہلے ایک چوہا نکلا تو بلی نے جھپٹا مار کر اسے دبوچ لیا۔*
*زیاد نے کہا جسے کوئی حاجت ہو تو وہ اس بلی کی طرح مستقل مزاجی سے یعنی خوب جم کر اس میں لگا رہے اپنی کوشش جاری رکھے ایک نہ ایک دن اسے کامیابی مل جائے گی!۔*
.jpeg)