پچھلے دو سال سے آج کے دن تک عرس مبارک کی تقریب کو خراب کرنے کے لیے اور سنیوں کو آپس میں لڑانے کی سازش کی جاتی رہی ہے
مزار شریف کی انتظامیہ ہو یا اوقاف کا ادارہ کسی کو اجازت نہیں حضور ﷺ کے نام کا نعرہ لگانے کی پابندی لگاۓ
مگر افسوس کے ساتھ یہ ایک بہت بڑی سازش کا حصہ ہے جو عرس مبارک میں کہا جاتا ہے کوئی بھی نعرہ نہیں لگے گا
اور ان دو نمبر پیروں اور مولویوں کو خصوصی دعوت دیکر بولایا جاتا ہے جو مسلک اعلی حضرت سے ہی خارج ہے
طاہر الپادری منہاج القران والے تو مسلک اعلی حضرت کے ہی نہیں ہے ابھی تو انکو سنی کیسے مانا جاۓ
جب دین اسلام کے دشمن غدار پیروں مولویوں کو اسٹیج پر بولایا جاۓ گا تو غیرت مند سنی ضرور آواز حق بلند کرے گا
*اور لبیک یا رسول اللّه ﷺ کا نعرہ لگانے پر کہا جاۓ یہ نعرہ نا لگاؤ تو ظاہر بات ہے ہر غیرت مند مسلمان کبھی خاموش نہیں بیٹھے گا*
کچھ شر پسند عناصر غیر ضروری بے ادبی والے کام کرے اور سب کا ملبہ ایک سازش کے تحت تحریک لبیک پاکستان پر ڈالا جاۓ یہ کہا کا قانون ہے
مزارات کا ادب اور تحفظ لبیک والو کو اچھے سے کرنے آتا ہے
*کیا لبیک یا رسول اللّه ﷺ کا نعرہ لگانے سے مزار کا مسجد کا تقدس پامال ہوتا ہے ؟؟؟؟؟*
*جو اسی سوچ بھی رکھتا ہے تو اس پر لاکھ بار لعنت ہو*
یہ لبیک یا رسول اللّه ﷺ کا نعرہ صحابہ کرام نے خود لگایا اور اس نعرہ کی وجہ سے پوری امت بیدار ہوئی ہے اور تم کو اس نعرہ سے ہی تکلیف کیوں؟؟؟؟؟
اورایک بہت بڑی سازش کے تحت ہی تحریک لبیک پاکستان کو بد نام کرنے کے لیے یہ فساد برپا کیا جاتا ہے
*تحریک لبیک پاکستان کا ہر کارکن مزارات اور مساجد کے تحفظ کے لیے ہمیشہ تیار رہتا ہے*
اصل میں تکلیف سب دو نمبر پیروں مولویوں کو یہ ہے کہ پوری قوم ایک ہی مرد قلندر جگر گوشہ امیر المجہادین رحمتہ اللّه علیہ علامہ حافظ سعد حسین رضوی صاحب کے لیے ہی اتنا مرتی کیو ہے کوئی ہمیں نہیں پوچھتا
کسی بھی دو نمبر بندے کو یہ ہضم نہیں ہوتا تو اس طرح کی گٹهيا حرکت کر کے تحریک لبیک پاکستان کو بد نام کرنے کی سازش کی جاتی ہے
لبیک والے ہر سازش کو نا کام بناۓ گے اور ہر دونمبر دین کے دشمن کو بے نقاب کرتے رہے گے
*عزت اسی کی ہوگی جو حضور ﷺ کی عزت ناموس کی بات کرے گا*
.jpeg)