کیا فرماتے ہیں علماۓ دین و مفتیان شرع متین کہ بلی پالنا کیسا ہے ۔۔ ؟ شرعی رہنماٸ عطا فرمادیں
الجواب بعون الملک الوھاب اللہم ہدایة الحق والصواب
*بلی پالنا جائز ہے اور اس کے پالنے میں کوٸ مضاٸقہ نہیں -*
نبی پاک ﷺ کے ایک مشہور جنتی صحابی حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ کو بلی ہی کی وجہ سے یہ کنیت بزبان مصطفی ﷺ عطا ہوٸ حالانکہ آپکا اصل نام عبد الرحمن ہے ۔
البتہ یادرہے کہ بلی کے کھانے پینے کے اہتمام میں کوتاہی ناکی جاۓ ۔
*چنانچہ حدیث پاک میں ہے :-*
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ سَجَنَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ، فَدَخَلَتْ فِيهَا النَّارَ، لاَ هِيَ أَطْعَمَتْهَا وَلاَ سَقَتْهَا، إِذْ حَبَسَتْهَا، وَلاَ هِيَ تَرَكَتْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الأَرْضِ -
*سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :-*
ایک عورت کو بلی کے سبب عذاب دیا گیا۔ اس نے بلی کو باندھے رکھا، یہاں تک کہ وہ مر گئی ، پس وہ عورت جہنم میں داخل کی گئی ۔ کیونکہ نہ اسے کھلاتی تھی نہ پلاتی تھی اور ہمیشہ باندھے رکھتی تھی، چھوڑتی بھی نہ تھی تاکہ وہ کیڑے مکوڑے ہی کھاتی ۔۔
*(صحیح مسلم، ج4، ص176، حدیث نمبر3482)*
*دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبة المدینہ کی شاٸع کردہ کتاب " ملفوظات "امیرِ اہلِ سنت " میں لکھا ہے کہ*
بلی پالنا جائز ہے۔ صحابی رسول حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللّه عنہ نے چھوٹی سی بلی پالی ہوئی تھی جسے وہ اپنی قمیض کی آستین میں اپنے ساتھ رکھتے تھے اِسی لیے ان کا نام "اَبُو ہریرہ" یعنی بلی والے پڑ گیا۔ ان کا اصل نام "عبد الرحمن ہے اور ابوہریر ان کی کنیت ہے تو ان کے بلی پالنے سے پتا چلا کہ بلی پالنا جائز ہے۔
*( ملفوظات "امیرِ اہلِ سنت" ص482 )*
*📝مجیب :-* *استاذ العلما مفتی خادم حسین شاہ قادری دامت برکاتھم العالیہ*