ہمارے معاشرے میں کم و بیش سبھی کو اصلاح کی حاجت رہتی ہے۔ جس طرح غلطیاں کرنے والوں كی کمی نہیں اسی طرح اصلاح کرنے والوں کی تعداد بھی کم نہیں، اگرچہ اصلاح کا انداز ہر ایک کا جداگانہ ہوتا ہے۔
بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو غلطیوں کے مُرتَکِب (یعنی غلطیاں کرنے والے) کو سمجھانا بے فائدہ سمجھتے ہیں اور یوں کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ بھائی! اسے سمجھانے سے کوئی فائدہ نہیں۔
پیارے اسلامی بھائیو! کسی کی اصلاح سے ہرگز مایوس نہیں ہونا چاہئے، اللہ پاک کا فرمانِ عالی شان ہے:
ترجمۂ کنزالایمان : اور سمجھاؤ کہ سمجھانا مسلمانوں کو فائدہ دیتا ہے۔
📖 القران، الذاریٰت : 55
لہٰذا یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ سمجھانا فائدہ نہیں دیتا، ہاں اندازِ تفہیم و اصلاح درست کرنا ہوگا۔
عام طور پر سمجھانے والے سمجھانے کے بجائے صرف منع کرنے کو ہی کافی سمجھتے ہیں مثلاً کسی نے کوئی ایسا کام کر دیا جو نقصان دہ تو ہو لیکن کرنے والے کو اس کے نقصان کا علم نہ ہو، تو اسے سمجھاتے ہوئے یوں کہہ دیا جاتا ہے "آئندہ ایسا نہ کرنا"۔ اب اگر وہ پوچھ لے کہ ایسا کیوں نہیں کرنا تو سامنے سے یوں جواب ملتا ہے: بس میں نے کہہ دیا نا کہ ایسا نہیں کرنا تو نہیں کرنا۔
یقینا ایسے بہت سے کام ہوتے ہیں جن سے منع کرنے کی حکمت بیان نہیں کی جاسکتی لیکن منع کرنے والے کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اس طرح منع کرنے سے کچھ لمحات کے لئے تو روکا جاسکتا ہے لیکن مستقل طور پر روکنا بہت مشکل ہے کیونکہ انسان ان کاموں کے کرنے کا حریص ہوتا ہے جن سے اسے منع کیا جائے چنانچہ کَنْزُالْعُمَّال کی حدیث پاک میں فرمایا گیا:
بیشک آدمی اُس کام کو کرنے کا حریص ہے جس سے اُسے منع کیا جائے۔
📖 كنزالعمال، حدیث: 44095
لہٰذا سمجھانے والا اگر کسی کام کے فوائد اور نقصانات بیان کر کے سمجھائے گا تو اس کے اثرات دیرپا ہونگے۔
*اکیلے میں سمجھائیں:*
بہتر یہ ہے کہ جس کی غَلَطی ہو اس کی الگ سے اکیلے میں اِصلاح کی جائے۔ یوں اس کو سب کے سامنے ندامت نہیں ہوگی اور بات بھی جلدی سمجھ آئے گی۔ اگر عَلَی الْاِعْلَان اِصلاح کی کوشش کریں گے تو شیطان اس کو ضد میں مبتلا کر سکتا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنی غَلَطی کو دُرُست ثابت کرنے کے لئے مزید 10 غَلَطیاں کرے گا۔
حضرتِ سَیِّدَتُنااُمِّ دَرداء رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا فرماتی ہیں:
جس نے کسی کے عیب کی الگ سے اِصلاح کی اس نے اسے سُدھار دیا اور جس نے کسی کے عیب کی سب کے سامنے اِصلاح کی اس نے اسے بگاڑ دیا۔
📖 شعب الایمان، 6 / 112، حدیث: 7641
*مسلمان کی عزت کا خیال رکھیں:*
سمجھاتے ہوئے مسلمان کی عزت کا خیال رکھیں اور اچھے الفاظ کے ذریعے سمجھائیں تاکہ اسے آپ سے وحشت نہ ہو اور وہ آئندہ بھی آپ سے تربیت لینے میں کسی ہچکچاہٹ کا شکار نہ ہو۔
اللہ پاک ہمیں اچھے انداز کے ساتھ اصلاح کرنے کا جذبہ نصیب فرمائے۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم