*ســــوال: کیا عورت بذاتِ خود کورٹ سے طلاق لے سکتی ہے؟*🔹💛🔹
*جوابــــــ: 🌹🍃طلاق کا اختیار شریعت نے مرد کو دیا ہے ،اس کے علاوہ کوئی دوسرا طلاق نہیں دے سکتا۔ حدیث مبارکہ ہے: "طلاق کا مالک وہی ہے جو عورت سے جماع کرے" لہذا اگر کورٹ نے شوہر کے طلاق دیے بغیر یک طرفہ عورت کے حق میں فیصلہ کر کے طلاق دے دی تو اسے طلاق نہ ہو گی ،اور اس عورت کا دوسری جگہ نکاح کرنا حرام و زنا ہے۔ (از طلاق کے آسان مسائل)*💟
: *ســـوال: اگر طلاق غصے میں دی جائے تو واقع ہو جاتی ہے یا نہیں؟* ❷❷
*جوابـــــ: ▪️🌹🍃اگر غصہ اس حد کا ہو کہ عقل جاتی ہے، یعنی آدمی کی حالت پاگلوں والی ہو جائے ،ایسی حالت میں دی ہوئی طلاق نہ ہو گی۔ لیکن ایسی حالت ہزاروں کیا لاکھوں میں کسی ایک کی ہوتی ہو گی ،اکثر غصےکی آخری حالت بس یہی ہوتی ہےکہ رگیں پھول جائیں ،اعضاء کانپنے لگیں ،چہرہ سرخ ہو جائے۔ایسی حالت میں یا اس سے کم غصے میں طلاق دی تو واقع ہو جائےگی۔ اور آجکل یہی صورت حال ہوتی ہے ،بعد میں کہتے ہیں ،جناب! ہم نے تو غصےمیں طلاق دی تھی۔ تو ایسےحضرات کی خدمت میں عرض ہےکہ طلاق عموماً غصے میں ہی دی جاتی ہے ،خوشی اور پیار محبت کےدوران تو شاید ہی کوئی طلاق دیتا ہو، لہذا یہ عذر درست نہیں۔(بہار شریعت)*🦚
ســـــوال: اگر طلاق کے وقت عورت موجود نہ ہو تو طلاق ہو جائے گی یا نہیں؟*🔸🦋🔸❸❷
*جوابـــــــ:▪️👈🏻 طلاق کے لیے بیوی کا وہاں موجود ہونا ضروری نہیں۔ شوہر بیوی کے سامنےطلاق دے یا دیگر رشتہ داروں کے سامنے ،یا دوستوں کےسامنے ،یا بالکل تنہائی میں ،ہر حال میں اگر شوہر نے اتنی آواز سے الفاظِ طلاق کہے کہ اس کےکانوں نے سن لیے ،یا کانوں نےشور وغیرہ کی وجہ سے سنےتو نہیں لیکن آواز اتنی تھی کہ اگر آہستہ سننے کا مرض یا شور وغیرہ نہ ہوتا تو کان سن لیتے ،ایسی صورت میں طلاق واقع ہو جائےگی۔ کسی دوسرے شخص کا موجود ہونا ،یا بیوی یا کسی دوسرےکا طلاق کےالفاظ سننا کوئی ضروری نہیں۔(بحوالہ کتاب طلاق کےآسان مسائل ،مکتبۃ المدینہ دعوت اسلامی)*📚✒️••••••••••♥️