جواب
اکثر دیہاتی علاقوں میں جنازہ گاہ نہیں بنی ہوتی کسی میدان میں نماز جنازہ ادا کر لی جاتی ہے۔۔۔۔ یا جنازہ گاہ تو موجود ہوتی ہے لیکن اس کی خاطر خواہ صفائی کا انتظام و انصرام نہیں ہوتا اور وہاں پر جانوروں کی آمد و رفت بھی رہتی ہے۔۔۔۔ اس لیے جوتا پہن کر یا اتار کر نماز جنازہ پڑھنے کی تین صورتیں بنتی ہیں اور تینوں کا حکم الگ الگ ہے۔
*اولاً*
جنازہ گاہ اگر ناپاک نہیں ہے تو پھر جوتے اتار کر نماز جنازہ ادا کرنا ہی سب سے زیادہ بہتر طریقہ ہے۔
*ثانیاً*
جنازہ گاہ اگر ناپاک ہے تو جوتا پہن کر نماز جنازہ ادا کی گئی تو نماز جنازہ نہ ہوگا۔۔۔ کیونکہ نیچے والی جگہ ناپاک ہے تو جوتا پہن کر نماز جنازہ پڑھی گئی تو جوتا زمین سے ملے ہونے کی وجہ سے ناپاک تصور ہوگا۔
حاشیہ مراقی الفلاح میں ہے:
وإذا صلى على موضع نجس، وفرش نعليه، وقام عليهما جاز، ولو كان لابساً لهما لا يجوز؛ لأنهما يكونان تبعاً له حينئذٍ
*ثالثاً*
جنازہ گاہ اگر ناپاک ہو اور جوتا اتار کر نماز جنازہ ادا کی تو نماز جنازہ نہیں ہوگی۔
اور اگر جوتا اتار کر اس کے اوپر کھڑے ہوکر نماز جنازہ ادا کی گئی۔۔۔۔
اب دیکھیں گے کہ جوتے کا اوپر والا حصہ پاک ہے یا ناپاک ۔۔۔۔؟
*اگر اوپر والا حصہ ناپاک تھا تو نماز جنازہ نہیں ہوگی اور اگر جوتے کے اوپر والا حصہ پاک ہوگا تو نماز جنازہ ادا ہو جائے گی۔*
فتاویٰ عالمگیری میں ہے
ولو خلع نعليه وقام عليهما جاز سواء كان ما يلي الارض منه نجسا او طاهرا.
*اعلیٰ حضرت عظیم البرکت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلی فرماتے ہیں:*
اگر وہ جگہ پیشاب وغیرہ سے ناپاک تھی یا جن کے جوتوں کے تلے ناپاک تھے اور اس حالت میں جوتا پہنے ہوئے نماز پڑھی تو ان کی نماز نہ ہوئی ۔ احتیاط یہی ہے کہ جوتا اتار کر اس پر پاؤں رکھ کر نماز پڑھی جائے کہ زمین یا تلا اگر ناپاک ہو تو نماز میں خلل نہ آئے۔
ردالمحتار میں ہے:
قد توضع فی بعض المواضع خارج المسجد فی الشارع فیصلی علیہا ویلزم منہ فسادھا من کثیر من المصلین لعموم النجاسۃ وعدم خلفہم نعالھم المتنجسۃ۔
*کبھی بعض مقامات مین بیرونِ مسجد سڑك پر جنازہ رکھ کر نماز پڑھی جاتی ہے اس سے بہت سے لوگوں کی نمازکا فسالازم آتاہے کیونکہ وہ جگہیں نجس ہوتی ہیں اور لوگ اپنے نجاست آلود جوتے اتارتے نہیں۔*
(فتاویٰ رضویہ، جلد9، مسئلہ 47)
*واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب*
✍️____ اسدالرحمن
.jpeg)