سلطان محمود غزنوی نے بہلول کو ھدائت کی کہ بازار جایئں اور قصائیوں کے ترازو اور جن پتھروں سے وہ گوشت تولتے ھیں وہ چیک کریں اور جن کے تول والہ پتھر کم نکلے انھیں گرفتار کرکے دربار میں حاضر کریں
بہلول بازار جاتے ہیں پہلے قصائی کا تول والا پتھر چیک کرتے ہیں تو وہ کم نکلتا ھے قصائی سے پوچھتے ہیں کہ حالات کیسے چل رھے ھیں قصائی کہتا ہے کہ بہت برے دن ھیں دل کرتا ہے کہ یہ گوشت کاٹنے والی چھری بدن میں گھسا دوں اور ابدی ننید سوجاوں بہلول اگے بڑھتے سے دوسرے قصائی کے تول والے پتھر کو چیک کرتے ہیں وہ بھی کم نکلتا ھے قصائی سے پوچھتے ہیں کہ کیا حالات ہیں وہ کہتا ہے کہ کاش اللہ نے پیدا ھی نہ کیا ھوتا بہت ذلالت کی زندگی گزار رھا ھوں بہلول اگے بڑھے تیسرے قصائی کے پاس پہنچے تول والا پتھر چیک کیا تو بلکل درست پایا قصائی سے پوچھا کہ زندگی کیسے گزر رھی ھے قصائی نے کہا کہ اللہ تعالٰی کا لاکھ لاکھ شکر ھے بہت خوش ھوں اللہ تعالٰی نے بڑا کرم کیا ھے اولاد نیک ھے زندگی بہت اچھی گزر رھی ھے بہلول واپس آتے ہیں سلطان محمود غزنوی پوچھتے ہیں کہ کیا پراگرس ھے بہلول کہتے ہیں کہ کئ قصائیوں کے تول والے پتھر کم نکلے ھیں سلطان محمود غزنوی نے غصے سے کہا کہ پھر انھیں گرفتار کرکے لائے کیوں نہیں بہلول نے کہا اللہ تعالٰی انھیں خود سزا دے رھا تھا ان پر دنیا تنگ کردی تھی تو یہاں لانے کی کیا ضرورت تھی اج ھمارے بھی کچھ یہی حالات ھیں ھم نے دنیا کو اپنایا ہے دنیا سے چمٹے ھوئے ھیں اور آخرت کی فکر ھی نہیں اللہ تعالٰی ھمارے حالات پر رحم فرمائے آمین
.jpeg)