*"اَلأصْلُ فِی الأشْیَاءِ الإبَاحَۃُ"*
بطورِ خاص وہ احباب ضرور پڑھیں جن سے صبح شام بدمذہب میلاد شریف کے حوالے سے طرح طرح کے اعتراضات کرتے ہیں مثلا: میلاد منانا کہاں لکھا ہے صحابہ نے منایا وغیرہ وغیرہ اور بالعموم سب ہی اس کو ذہن نشین فرمائیں۔
مدارسِ دینیہ میں فقہ کی کتابوں میں اور اصولِ فقہ کی کتابوں میں ایک قاعدہ کلیہ پڑھایا جاتا ہے،وہ مدارس چاہے ہمارے اپنے ہوں یا بدمذہبوں کے ہوں، وہ قاعدہ ہے:-
*"اَلأصْلُ فِی الأشْیَاءِ الإبَاحَۃُ"*
یعنی ہر چیز اصل میں مباح و جائز ہونا ہے۔
یہ اصل(بنیاد) حضرت امام شافعی اور احناف میں حضرت امام کرخی کے نزدیک ہے۔
(الأشباہ والنظائر''، الفن الأول: القواعد الکلیۃ، النوع الاول، القاعدۃ الثالثۃ، ص56،57)
متاخرین احناف نے بھی اس کو تسلیم کیا ہے اور سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان بھی اس کو بطور سند لائے ہیں۔ دلیل اس کی یہ ہے کہ ﷲعزوجل نے قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا:
*(ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَ لَکُمۡ مَّا فِی الۡاَرْضِ جَمِیۡعًا ٭)*
(پ1،البقرۃ:29)
ﷲ ہی نے تمہارے لئے جو کچھ زمین میں ہے پیدا فرمایا ۔
لہٰذا ہر چیز مباح اور جائز ہے جب تک اس کے عدم جواز(ناجائز ہونے) یا تحریم(حرام ہونے) پر کوئی دوسرا حکم نہ ہو،
صاحبِ ہدایہ علیہ الرحمہ کا بھی یہی موقف ہے
(الھدایۃ''،کتاب الطلاق،باب العدۃ ،ج1،ص278)
حدیث شریف میں ہے:
*اَلْحَلالُ مَا أحَلَّ اللہُ فِیْ کِتَابِہٖ وَالْحَرَامُ مَاحَرَّمَ اللہُ فِیْ کِتَابِہٖ وَمَاسَکَتَ عَنْہُ فَھُوَ مِمَّا عَفَا عَنْہُ*
''حلال وہ ہے جوﷲعزوجل نے اپنی کتاب میں حلال فرمادیا اور حرام وہ ہے جوﷲعزوجل نے اپنی کتاب میں حرام فرمادیا اور جن چیزوں سے سکوت اختیار فرمایا وہ معاف ہیں اور مباح ہیں''۔
(سنن ابن ماجۃ''، کتاب الأطعمۃ، باب أکل الجبن والسمن، الحدیث: 3367، ج 4، ص 56)
لہٰذا ہر وہ چیز جس کے بارے میں ﷲ عزوجل کا کوئی فرمان موجود نہیں وہ جائز و مباح ہے اگر اسے کوئی شخص ناجائز یا حرام یا گناہ کہے گا تو اس پر لازم ہے کہ وہ دلیل شرعی لائے کیونکہ مسکوت عنہ(جس سے سکوت کیا گیا)کو مباح و جائز کہنے کے لئے یہ حدیث ہی کافی ہے۔ قرآنِ پاک کی ایک آیت اس مفہوم کو ثابت کرنے والی اوپر بیان ہوچکی ہے دوسری آیت جس سے یہ مفہوم اور زیادہ وضاحت سے ثابت ہوتا ہے یہ ہے:-
*(یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَسْـَٔلُوۡا عَنْ اَشْیَآءَ اِنۡ تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ ۚ)*
(پ7،المآئدۃ:101)
''اے ایمان والو تم ایسی چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو جن کا حکم نازل نہیں کیا گیا کہ اگران کا حکم ظاہر کردیا جائے تو تمہیں تکلیف پہنچے''
اسی لئے حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے شرعی احکام میں کثرت سوال سے منع فرمایا کہ اس سے شریعت کے احکام کے سخت ہونے کا اندیشہ ہے اس آیت کا واضح مفہوم یہی ہے کہ جن چیزوں کے بارے میں کوئی حکم نازل نہیں ہوا وہ عفو میں داخل ہیں۔ اگر ان کی ممانعت یا فرضیت کا حکم نازل ہوگیا تو تمہیں تکلیف پہنچے گی۔ لہٰذا جن چیزوں کے بارے میں کوئی حکم نازل نہیں ہوا وہ آیت مذکورہ
(ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَ لَکُمۡ مَّا فِی الۡاَرْضِ جَمِیۡعًا٭)
کی رو سے جائزومباح ہیں،
(تِلْکَ حُدُوْدُ اللہِ فَلَا تَعْتَدُوۡہَا ۚ) (پ1،البقرۃ:229) ''
اور یہ ﷲ عزوجل کی بیان کردہ حدود ہیں تو ان سے تجاوز نہ کرو۔''
لہٰذا جو ان مسکوت عنہ کو ناجائز یا حرام یا بدعت سیئہ یا فرض یا واجب کہے وہ قرآن یا حدیث یا قواعد فقہیہ سے دلیل لائے ورنہ یہ ﷲ عزوجل کی بیان کردہ حدود سے آگے بڑھنا ہے اور ﷲ عزوجل اور رسول اکرم علیہ الصلوٰۃ والسلام اور شریعت کاملہ پر افتراء ہوگا۔ جس کی قرآن میں شدید مذمت آئی ہے اور سخت ممانعت و تہدید کی گئی ہے لہٰذا میت کو ایصالِ ثواب کے لئے تعین وقت کے ساتھ قرآن خوانی یا سوا لاکھ بار کلمہ شریف پڑھنا یا پڑھوانا فاتحہ ودرود، انعقادِ محافلِ میلاد شریف اور صلوٰۃ وسلام اور بیعت و ارادت وغیرہا کے عدم جواز و بدعت کے قائلین کو قرآن یا احادیث یا اقوال صحابہ یا اَقَل درجہ میں قواعد فقہیہ سے ان کے عدم جواز پر دلیل لانا چاہیے۔ بلا دلیل شرعی ان کے عدم جواز کا قول ﷲ عزوجل اور رسول ﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر افتراء ہے،
وَالْعِیَاذُ بِاللہِ تَعَالٰی ۔
یہ امر بھی ملحوظ رکھنا اشد ضروری ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا قول و فعل اور صحابہ کرام کا قول و فعل تو حجت شرعیہ ہے مگر ان کا عدم قول اور عدم فعل، عدم جواز کے لئے حجت شرعیہ نہیں وہ اسی قاعدہ کے مطابق جائز و مباح ہے کہ اَلأصْلُ فِی اَلأشْیَاءِ الإبَاحَۃُ بلکہ امر مباح بہ نیت خیر باعثِ اجر و ثواب ہے اور مستحسن کہ
''انَّماَ الْأعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ''
حدیث صحیح ہے بلکہ وہ تمام امور مباح جن سے دین کی ترقی یا تعلیماتِ اسلام کی اشاعت اور شریعت کا تحفظ ہوتا ہے سب مستحسن ہیں۔
(بہارِ شریعت جلد3، حصہ19،
ص1072)
اللہ عزوجل ہمیں حقیقی معنوں میں دین کی سمجھ بوجھ عطا فرمائے آمین۔
*🌹منتخب اردو تحریریں🌹*
.jpeg)