میری عُمْر تم کو لگ جائے کہنا کیسا ہے؟
*جواب:* جائز ہے، اس کا مطلب لمبی عمر کی دُعا دینا ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسولُ اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جب اللہ پاک نے حضرتِ آدم کو پیدا کیا تو ان کی پُشْت سے تاقِیامت پیدا ہونے والی اولاد کو حضرتِ آدم پر پیش کیا۔ وہ بولے: اے ربّ! یہ کون ہیں؟ فرمایا: تمہاری اولاد۔ حضرتِ آدم علیہ السَّلام نے ان میں سے ایک شخص کو دیکھا جس کی آنکھوں کے درمیان کی چمک آپ کو پسند آئی، عرض کی: اے رب! یہ کون ہے؟ فرمایا: داؤد۔ عرض کی: اے رب! ان کی عمر کتنی مقرّر فرمائی ہے؟ فرمایا: ساٹھ سال۔ عرض کی: یا رب ! میری عمر میں سے چالیس سال ان کی عمر بڑھا دے۔ جب حضرت آدم علیہ السَّلام کی عمر چالیس سال کے علاوہ پوری ہوئی تو ان کی خدمت میں ملکُ الموت حاضِر ہوئے، حضرت آدم علیہ السَّلام نے فرمایا: کیا ابھی میری عمر کے چالیس سال باقی نہیں؟ عرض کی: وہ آپ اپنے فرزند داؤد کو نہ دے چکے؟
(ترمذی،ج5،ص53، حدیث:3087 ماخوذا)📚
مفسرِ قراٰن، حکیمُ الامّت حضرت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنَّان فرماتے ہیں: آدم علیہ السَّلام کی عمر ایک ہزار سال تھی، آپ نے عرض کیا کہ میری عمر نو سو ساٹھ سال کردے اور داؤد علیہ السَّلام کی عمر پورے سو سال،یہ دُعا رب نے قبول فرمالی۔
(مراٰۃ المناجیح،ج 1،ص118)
*وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم*
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!
صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد
.jpeg)