*دارالافتاء اہلسنت*
(دعوت اسلامی)
*سوال نمبر 355*
میں نماز میں ایک عرصے تک ”سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْم“ کے بجائے ”العزِیم“ پڑھتا تھا۔ کیامذکورہ غلطی سے تمام نمازیں واپس دوہرانی پڑیں گی.؟؟؟
*بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ*
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
✍🏻 رکوع کی تسبیح ”سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْم“ پڑھتے ہوئے ”عَظِیْم“ کے بجائے ”عَزِیْم“ پڑھنے سے نماز فاسد ہوجاتی ہے، لہذا آپ نے جو نمازیں اس طرح پڑھیں، انہیں دوبارہ ادا کریں ۔
بہار شریعت میں ہے :’’قراءت یا اذکارِ نماز میں ایسی غلطی جس سے معنی فاسد ہو جائیں، نماز فاسد کر دیتی ہے۔ ‘‘
📚 بہارشریعت ،جلد:1،صفحہ:614،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ
قانون شریعت میں ہے :
’’ جس نے سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْم میں عظیم کو عزیم، ظ کے بجائے ز پڑھ دیا تو نماز جاتی رہی لہٰذا جس سے عظیم صحیح ادا نہ ہو وہ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْکَرِیْم پڑھے۔ ‘‘
📕(قانون شریعت ،صفحہ:175،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)
*واللہ اعلم ورسولہ اعلم ﷺ*
.jpeg)