تحریر: ڈاکٹر یونس خان
حل کسی بھی مسئلے کا ہو اس کے لئے مسئلہ کی گہرائی سے آگاہی ضروری ہے۔ اور تعلیم تو کسی بھی قوم کی زندگی اور موت، عروج و زوال اور عزت و ذلت کا تعین کرنے میں فیصلہ کن عنصر کی حیثیت رکھتی ہے۔ چنانچہ ہمیں پہلے مرحلے میں پاکستان کے تعلیمی مسائل کا تجزیہ کرنا ہے۔
*(1) ...* غالبا سب سے بڑا مسئلہ وژن اور مشن کے فقدان اور اس ضمن میں نظری و فکری انتشار کا ہے۔ ہمارا وژن کسی ایک نقطے پر مرکوز (فوکسڈ) نہیں ہے۔ ہم آج تک یہ تعین ہی نہیں کر سکے کہ بحیثیت قوم ہماری منزل کیا ہے؟ ہم نے اپنے بچوں میں کیا صلاحیتیں ابھارنی ہیں اور ان کی شخصیت کو کونسی سمت دینی ہے۔ یہی وہ بے سمتی بے جس کے باعث پاکستان میں کئی نظام تعلیم پہلو بہ پہلو چل رہے ہیں، جن میں سے ہر ایک کی منزل نہ صرف مختلف ہے بلکہ یہ ایک دوسرے سے متصادم بھی ہیں۔ باقی تمام مسائل کی جڑیں اسی مسئلہ سے ہی پھوٹتی ہیں۔
*(2) ...* نصاب ہے۔ نصاب میں مضامین کا انتخاب اور ہر مضمون کے اسباق کی تیاری کے ساتھ عملی مشقوں کا انعقاد۔
اس سارے سیٹ اپ کا ازسر نو جائزہ لے کر نئی حکمت عملی مرتب کرنا اور انقلابی فیصلے کرنا درخشاں قومی ترقی کے ناگزیر امور ہیں۔
*(3) ...* تعلیم کو سماج سے ہم آہنگ کرنا جس سے بچہ اپنے سماج اور اس کی اقدار کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرسکے۔ واقعہ یہ ہے کہ فی الوقت مروج تعلیمی نظام میں معاشرہ اور مکتب دو مختلف ہی نہیں بلکہ مخالف سمتوں میں رواں دواں ہیں۔ ماحول، سوسائٹی اور تعلیمی ادارے میں کوئی ربط و ہم آہنگی نہیں ہے۔ اس سے قومی ترقی اور امنگوں کی تکمیل کی کوئی صورت گری نہیں ہو سکتی۔
*(4) ...* کتابی علوم کے ساتھ جسمانی، عملی، اخلاقی اور انتظامی تعلیم اور تربیت کا شدید فقدان ہے۔ کردار سازی اور شخصیت سازی کے مسائل بھی اسی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔
*(5) ...* اہم مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا نظام تعلیم بچے کے شوق اور جستجو کا قاتل ہے۔ یہ بچے کے فطری تجسس کے جذبے کو کچل کے رکھ دیتا ہے۔
*(6) ...* بچے کے مزاج اور رحجان کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی جس سے اس معصوم کی ساری عقل و دانش دھری کی دھری رہ جاتی ہے۔
*(7) ...* والدین کی مناسب رہنمائی کے فقدان کا ہے۔ والدین کی رہنمائی کر کے اسکول کی عملداری کا دائرہ اثر گھر تک بڑھایا جا سکتا ہے ۔
*(8) ...* اساتذہ کی تربیت
اساتذہ کی تربیت بالکل روایتی اور بے جان انداز سے کی جاتی ہے۔ اساتذہ کو بھی اکثر اوقات صرف ڈگری اور پروموشن سے ہی غرض ہوتی ہے۔
*(9) ...* امتحانی نظام اور طریقہ کار کا جن میں بےشمار خامیاں ہیں۔ پورے سال کا امتحان محض تین گھنٹوں میں لے لیا جاتا ہے اور وہ بھی بس گنے چنے مضامین میں رٹے کی بنیاد پر۔ پھر اس میں نقل، سفارش، رشوت اور دیگر ہتھکنڈوں نے عملا" میرٹ کی دھجیاں اڑا کر رکھ دی ہیں۔
*(10) ...* علمی ماحول۔
ہمارے تعلیمی اداروں اور کلاس روم کا ماحول اطفال دوست child friendly نہیں ہے۔ جس کی بنا پر ایک طالب علم کو اپنے تعلیمی ادارے میں کوئی کشش نظر نہیں آتی۔
*(11) ...* سب سے آخر میں یہ کہ ہر سبجیکٹ کا ایک علیحدہ مزاج ہوتا ہے۔ لھذا اس کی تدریس کا انداز بھی اسی لحاظ سے ہونا چاہیے لیکن یہاں سب کچھ ایک ہی اکتاہٹ بھرے اور غیر دلچسپ انداز میں پڑھایا جاتا ہے۔
*مذکور بالا مسائل کے علاوہ بھی بہت سے مسائل ہیں، لیکن وہ سب ذیلی اور فروعی ہیں۔ بڑے اور اساسی مسائل یہی ہیں۔ ہمیں ان تمام مسائل کے حل کے لئے فکر و نظر اور تلاش و جستجو کا ہر در وا کرنا ہے۔ ہر پہلو کو مد نظر رکھنا ہے اور کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے اس کے تمام محاسن و عیوب کا تجزیہ کرنا ہے۔ مگر جب ایک نتیجے پر پہنچ جائیں تو پھر پوری یکسوئی اور تن من دھن کے تمام وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے اس راہ پر گامزن ہو جانا ہے۔ یہی راستہ ہماری خوش بختی اور عروج کا راستہ ہو گا۔*
*یہ لازم ہے کہ مذکورہ بالا مسائل کا ایک ایک کر کے قدرے تفصیل سے تجزیہ کرتے ہوئے ان کے ممکنہ حل تلاش کرنے کی کاوش کی جائے۔*
*🌹منتخب اردو تحریریں🌹*
.jpeg)