2018 میں وطن عزیز پاکستان کی پارلیمنٹ نے خواجہ سراؤں کے حقوق کا جھوٹا خوش نما عنوان دے کر ایک قانون پاس کیا جو اپنے اثرات اور نتائج کے لحاظ سے اسلام کے لیے تباہ کن ہے..اس قانون کا نام ہے "ٹرانس جینڈر (ما ورائے صنف) لوگوں کے حقوق کا ایکٹ. اس ایکٹ کی تباہ کاریوں کی طرف ہمارے علماء کرام اور مذہبی جماعتوں کی توجہ دیر سے گئی. خیر دیر آید درست آید.
✍️ (ٹرانس جینڈر ایکٹ کیا ہے)
* یاد رہے کہ ٹرانس جینڈر ایکٹ خواجہ سراؤں کے لیے ہرگز نہیں ہے بلکہ ان کا نام صرف دھوکہ دہی کے لیے استعمال کیا گیا ہے، اس ایکٹ میں جو شقیں منظور کی گئی ہیں ان میں بالکل ہی دوسری خوف ناک اسلام دشمن کھچڑی پکائی گئی ہے.
* ٹرانس جینڈر کا مطلب ہے وہ لوگ جو پیدائش کے وقت تو مکمل مرد یا عورت ہوں مگر بڑے ہو کر مردوں میں خواہش پیدا ہو جائے کہ وہ عورت بن جائیں، اور عورتوں میں خواہش پیدا ہو جائے کہ وہ مرد بن جائیں.
* اس سلسلے میں وہ تین طرح کے غیر فطری امور اختیار کرتے ہیں..
ایک تو یہ کہ عورتیں مردوں جیسی اور مرد عورتوں جیسی شکل و شباہت اختیار کر لیتے ہیں..
دوسرا یہ کہ وہ ایسی دوائیں استعمال کرتے ہیں جن سے مردوں کے آواز و انداز عورتوں جیسے ہو جاتے ہیں اور عورتوں کے آواز و انداز مردوں جیسے ہو جاتے ہیں..
تیسرا یہ کہ وہ ڈاکٹروں سے پلاسٹک سرجری کروا کے اپنے زنانہ و مردانہ اعضاء کی ساخت کافی حد تک تبدیل کروا لیتے ہیں.
اب وہ نہ تو مکمل مرد رہ جاتے ہیں اور نہ ہی مکمل عورت.
* یہ ہیں دراصل وہ ٹرانس جینڈر جن کے لیے خواجہ سراؤں کے نام پر ملک میں ایکٹ منظور کیا گیا اورجس سے اسلام کے بخیے ادھڑ کے رہ جاتے ہیں.
* اس قانون کے مطابق اگر کوئی مرد نادرا آفس جا کر کہے کہ میں اپنے آپ کو عورت رجسٹرڈ کروانا چاہتا ہوں یا کوئی عورت جا کر کہے کہ میں اپنے آپ کو مرد رجسٹرڈ کروانا چاہتی ہوں تو نادرا بغیر کسی طبی معائنے یا سرٹیفکیٹ کے اس چیز کا پابند ہو گا کہ وہ اس مرد کو عورت کا اور عورت کو مرد کا شناختی کارڈ بنا کر دے.
* یہ ہوش ربا قانون نہ صرف یہ کہ بن چکا ہے بلکہ اس پر عمل درآمد بھی شروع ہو چکا ہے. تیس ہزار سے زائد افراد اب تک اپنے آپ کو ٹرانس جینڈر رجسٹرڈ کروا چکے ہیں. جن میں سے تقریباً سترہ ہزار مرد ایسے ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو بطور عورت رجسٹرڈ کروایا.. اور تقریباً تیرہ ہزار عورتیں ایسی ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو بطور مرد رجسٹرڈ کروایا... جبکہ بقیہ خواجہ سرا لوگ ہیں.
* یاد رہے کہ اس قانون کے بنوانے میں ملکی و غیر ملکی این جی اوز اور عالمی طاغوتی طاقتوں کا ہاتھ ہے. یہ ایکٹ لا کر دراصل وہ مغرب کی شیطانی تہذیب مسلمانوں پہ مسلط اور اسلام کا بیڑہ غرق کرنا چاہتے ہیں.
* یہ بات بالکل واضح ہے کہ عالمی طاقتوں کے مضبوط شکنجے کی وجہ سے وطن عزیز میں سیاسی اسلام تو بالکل نافذ نہیں ہے لیکن تہذیبی و معاشرتی اسلام ابھی بھی بہت حد تک زندہ ہے جو عالمی طاقتوں کو بہت زیادہ چبھتا ہے. ٹرانس جینڈر ایکٹ دراصل اسی تہذیبی و معاشرتی اسلام کو تباہ و برباد کرنے کے خوف ناک منصوبے کا نام ہے.
✍️ (ٹرانس جینڈر ایکٹ : اسلام دشمن کیسے)
آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ ایکٹ کس طرح اسلام دشمن ہے اور اس کے نتائج کس حد خطرناک ترین ہیں.
* ہم مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ کائنات کی ہر ہر چیز کا خالق و مالک اللہ تعالیٰ ہے اور اس نے ہر ہر چیز کے لیے ایک اصول، ایک ضابطہ مقرر فرما دیا ہے. اس اصول اور ضابطے کی پابندی سب کے لیے ضروری ہے، اس سے باہر نکلنے کی کسی کو بھی کسی صورت اجازت نہیں ہے.
* آیت کریمہ ہے: فطرۃ اللہ التی فطر الناس علیہا لا تبدیل لخلق اللہ (الروم) یعنی اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو مخصوص فطری قوانین کے تحت پیدا کیا ہے، ان فطری قوانین میں تبدیلی لانے کی قطعا کسی کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے.
دوسری آیت کریمہ جس میں شیطان نے اللہ تعالیٰ کے سامنے قسم اٹھا کر کہا تھا : و لآمرنھم فلیغیرن خلق اللہ، و من یتخذ الشیطان ولیا من دون اللہ فقد خسر خسرانا مبینا.(النساء) یعنی میں انسانوں کو خوب ورغلاؤں گا اور ان سے تخلیق الہی میں تبدیلیاں کرواؤں گا.
ٹرانس جینڈر ایکٹ دراصل یہی تخلیق الہی میں تبدیلی لانے کا شیطانی پروگرام ہے.
* اصول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس کو جو بھی مخلوق بنایا ہے وہ اس پہ راضی رہے اور کوئی دوسری مخلوق بننے کی خواہش اور کوشش نہ کرے. بلی کہے میں کسی طرح ہاتھی بن جاؤں.. چوہا کہے میں کسی طرح شیر بن جاؤں.. بکری کہے میں کسی طرح مگر مچھ بن جاؤں.. سمندر کہے میں کسی طرح سورج بن جاؤں.. عورت کہے میں کسی طرح مرد بن جاؤں.. مرد کہے میں کسی طرح عورت بن جاؤں. یہ سب پرلے درجے کی نا جائز غیر فطری خواہشیں ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کے تخلیقی نظام سے کھلی بغاوت ہے. اس سے صرف رکنا ہی فرض نہیں بلکہ روکنا بھی فرض ہے.
* دل میں ایسی خواہش کا پیدا ہونا دراصل ایک وہمی و نفسیاتی بیماری ہے جس کے علاج کا قانون بنایا جانا چاہیے تھا، حیرت ہے کہ الٹا خود اس بیماری کو ہی قانون کا درجہ دے دیا گیا.
* یہ بھی اصل میں میرا جسم میری مرضی کا شاخسانہ ہے. یہ صاف صاف اللہ تعالیٰ کی خدائی کا انکار کر کے اپنی خدائی کا دعوی کرنے والی بات ہے. یعنی جو صنف اللہ تعالیٰ نے مجھے بنایا ہے مجھے وہ قبول نہیں، میں دوسری صنف بننا پسند کرتا/کرتی ہوں.
* لیکن یاد رہے کہ بندہ ہمیشہ بندہ ہی رہتا ہے وہ جتنی مرضی کوشش کر لے کبھی خدا نہیں بن سکتا. اللہ تعالیٰ اپنی طاقت منوا کے رہتا ہے. کیا اگر مرد کی صنف تبدیل کر کے اسے جعلی عورت بنا دیا جائے تو وہ بچے جنم دینے کی پوزیشن میں آ جائے گا یا اس کے سینے میں دودھ اتر آئے گا؟ ایسا کبھی بھی ممکن نہیں.
اور اگر عورت کی صنف تبدیل کر کے اسے عورت قرار دے دیا جائے تو کیا وہ حقیقی شوہر کا کردار ادا کرنے کے قابل ہو جائے گی اور اس میں مردوں جیسی دیگر صلاحیتیں عود کر آئیں گی؟ ہرگز نہیں.. بلکہ ہو گا یوں کہ کوا چلا ہنس کی چال سیکھنے اپنی بھی بھول گیا.
* یہود و نصاریٰ ہر دور میں کوشاں رہے ہیں کہ کسی طرح مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے نیست و نابود کر دیا جائے.. اگر یہ ممکن نہ ہو تو پھر انہیں اپنی طرح کافر بنا دیا جائے.. اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو پھر کم از کم ان کے جسم و جان سے اسلام کی روح کھینچ لی جائے. اور وہ اپنی اس سوچ پر ہمیشہ سے گامزن چلے آ رہے ہیں، مسلمان بھولے بھالے ہیں جو ان کے چکر میں آ جاتے ہیں. حالانکہ اللہ تعالیٰ نے بار بار مسلمانوں کو خبردار و ہوشیار کیا ہے. اس نے واشگاف الفاظ میں ارشاد فرمایا: وَ لَنۡ تَرۡضٰی عَنۡکَ الۡیَہُوۡدُ وَ لَا النَّصٰرٰی حَتّٰی تَتَّبِعَ مِلَّتَہُمۡ ؕقُلۡ اِنَّ ہُدَی اللّٰہِ ہُوَ الۡہُدٰی ؕ (البقرہ)
یعنی تم سے یہود و نصاری اس وقت تک راضی نہیں ہوں گے جب تک تم ان کے مذہب کے پیروکار نہ بن جاؤ. اے حبیب انہیں بتا دیجیے کہ ہدایت تو دراصل اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہے.
✍️(ٹرانس جینڈر ایکٹ : احادیث طیبہ کی روشنی میں)
احادیثِ مبارکہ میں بھی تخلیق الہی میں تبدیلی لانے کو سخت حرام قرار دیا گیا ہے. چند احادیث ملاحظہ ہوں.
* حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن مردوں پر لعنت فرمائی جو عورتوں کی وضع اختیار کرتے ہیں اور اُن عورتوں پر لعنت فرمائی جو مردوں کی وضع اختیار کرتے ہیں اور فرمایا: انھیں اپنے گھروں سے نکال دو۔(بخاری)۔
* اللہ تعالیٰ نے زنانہ صورت اختیار کرنے والے مردوں اور مردانہ صورت اختیار کرنے والی عورتوں پہ لعنت فرمائی ہے.(مسند احمد)۔
* حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک مُخَنَّث (خواجہ سرا) لایا گیا جس کے ہاتھ اور پاؤں پر مہندی لگی ہوئی تھی۔ آپ نے فرمایا: ’’یہ کیا ہے؟‘‘عرض کیا گیا: ’’یہ عورتوں سے مشابہت کرتا ہے‘‘۔ آپ نے اُسے مدینہ منورہ سے نکالنے کا حکم دیا۔صحابہؓ نے عرض کیا: ’’یارسولؐ اللہ! ہم اسے قتل نہ کردیں؟ آپ نے فرمایا: مجھے مسلمانوں کو قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے. (سنن ابوداؤد)۔
* حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک خواجہ سرا حضور کے گھر آیا کرتا تھا۔ ایک بار آپؐ نے اُسے ایک عورت کی جسمانی ساخت پر گفتگو کرتے ہوئے سنا تو فرمایا:اسے گھروں سے نکال دو. (ابوداؤد)
* رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زنانہ لباس پہننے والے مردوں پر اور مردانہ لباس پہننے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے۔ (سنن ابوداؤد)
✍️ (ٹرانس جینڈر ایکٹ سے پیدا ہونے والے خوف ناک معاشرتی مسائل)
اس سلسلے میں ہم سب سے پہلے اپنی سابقہ بات نئے انداز میں دوبارہ دہرانا چاہتے ہیں.. وہ یہ کہ اصولی طور پر کسی بھی فرد کی پیدائش کے وقت ہی متعین ہو جاتا ہے کہ وہ جنسی اعتبار سے مرد ہے یا عورت.. لیکن اس ایکٹ میں ہر ہر فرد کو کھلی اجازت دے دی گئی ہے کہ وہ جب بھی چاہے بغیر کسی طبی معائنے کے اپنی مرضی سے اپنے آپ کو مرد لکھوا لے یا عورت. یہ ایسی خوف ناک شق ہے جو کھربوں تہذیبی و معاشرتی مسائل کو جنم دے گی.
* کوئی بھی عورت جب مرضی چاہے گی اپنے آپ کو مرد لکھوا کر وراثت سے دگنے حصے کی حق دار بن جائے گی.
* بے شمار مرد اپنے آپ کو عورتیں لکھوا کر عورتوں کے تعلیمی اداروں میں داخلے کے حق دار بن جائیں گے
* بے شمار عورتیں اپنے آپ کو مرد لکھوا کر مردوں کے لیے مخصوص سرکاری ملازمتوں کے لیے درخواست دینے کی اہل بن جائیں گی.
* ایسے مرد عورتوں کی جیلوں میں ان کے ساتھ قید کیے جا سکیں گے اور ایسی عورتیں مردوں کی جیلوں میں ان کے ساتھ قید کی جا سکیں گی.
* سرکاری تعلیمی اداروں اور محکموں میں میل فی میل داخلوں اور ملازمتوں کے ایشوز اٹھ کھڑے ہوں گے.
* ایسے مرد مساجد میں عورتوں کے پورشن میں ان کے کندھوں کے ساتھ کندھا ملائے کھڑے ہوں گے اور ایسی عورتیں مردوں کے پورشن میں ان کے کندھوں کے ساتھ کندھا ملائے کھڑی ہوں گی.
* ایسی عورتیں مردوں کے پبلک واش رومز میں جا سکیں گی اور ایسے مرد عورتوں کے پبلک واش رومز میں جا سکیں گے.
* خاندانی نظام تباہ و برباد ہو کے رہ جائے گا، یہ طریقہ اختیار کر کے باپ ماں قرار پا جائے گا اور ماں باپ قرار پا جائے گی.
* اولاد میں بیٹے بیٹیوں کی تعداد کے مسائل پیدا ہوں گے.. حقیقی تعداد کچھ اور ہو گی اور کراس جینڈر بننے کے بعد کچھ اور ہو جائے گی.
* گھروں میں وراثتی و معاشرتی جھگڑے بہت زیادہ ہو جائیں گے.
* شادی بیاہ کے معاملات تو بالکل ہی درہم برہم ہو کے رہ جائیں گے.
* عین نکاح کے موقع پر دلہن مرد بن کر شادی سے انکار کر دے گی.
* بہت سے مرد عورت بن کر بیوی کو حق مہر و دیگر حقوق دینے سے انکار کر دیں گے اور بہت سی عورتیں مرد بن کر نکاح توڑ ڈالیں گی.
* بہت سے مرد عورتیں بن کر مردوں سے نکاح کے حق دار بن جائیں گے اور ہم جنس پرستی کے مرتکب ہوں گے.
* بہت سی عورتیں مرد بن کر عورتوں سے نکاح کی حق دار بن جائیں گی اور ہم جنس پرستی کی مرتکب ہوں گی.
* ایسی عورتیں سرکاری و غیر سرکاری مساجد میں قانوناً مؤذن، امام اور خطیب بننے کی اہل ہوں گی.
* ایسے بہت سے مرد جو عورتیں بنے پھر رہے ہوں گے وہ سرکاری اداروں سے میٹرنٹی لیو لینے کے مجاز ہوں گے.
* عدالتوں میں عورتیں مرد بن کر گواہی دینے پہنچ جائیں گی اور مرد عورتیں بن کر گواہی دینے پہنچ جائیں گے.
* عورتیں مرد بن کر اپنے پیر سے خلافت لینے اور آستانے بنا کر مردوں سے بیعت لینے کی حق دار ہوں گی.
* ایسے بہت سے مرد زنانی وضع قطع اختیار کر کے عورتوں میں جا گھسیں گے اور عورتیں مردوں کی وضع قطع اختیار کر کے ان میں جا گھسیں گی.
* کراس جینڈرز میں شامل ہونے کی خواہش رکھنے والے مرد اور عورتیں ڈاکٹروں کے سامنے اپنے پوشیدہ اعضاء کھولیں گے اور ان کی سرجری کروائیں گے.
* مرد عورتوں کی مشابہت (وضع قطع ) اختیار کریں گے اور عورتیں مردوں کی مشابہت (وضع قطع) اختیار کریں گی.
* بے پردگی اور بے حیائی کو فروغ ملے گا.
* عمل قوم لوط ( ہم جنس پرستی) میں بہت زیادہ اضافہ ہو جائے گا اور اسے اس کراس جینڈر نامی قانون کی مکمل سرپرستی حاصل ہو گی.
✍️(اصل مسئلہ)
* اصل مسئلہ تو خواجہ سراؤں کے مظلوم طبقے کا تھا جن کے لیے قانون سازی کر کے ان کے مسائل حل کرنے چاہئیں تھے، مگر افسوس یہ قانون بنا کر ان پہ مزید ظلم ڈھا دیا گیا اور ان کا نام لے کر بہت سے جعلی مرد اور جعلی عورتیں وجود میں لانے کا منصوبہ بنا لیا گیا.
* قدرتی طور پر کسی کا مُخَنَّث ( ہیجڑا) پیدا ہونا اُس فرد کا ذاتی عیب نہیں ہے۔اس بنا پر نہ اُسے حقیر سمجھنا چاہیے اور نہ اُسے ملامت کرنی چاہیے ،کیونکہ ملامت اس وقت جائز ہوتی ہے جب کوئی اپنے اختیار سے کوئی غلط کام کرے جبکہ مخنث پیدا ہونا نہ ہونا کسی کے ذاتی اختیار میں نہیں ہے .
* خواجہ سراؤں کے احکام و حقوق شریعت میں متعین ہیں. حکومت کا فرض تو یہ بنتا تھا کہ وہ علماء اسلام سے رابطہ کر کے شریعت اسلامیہ کی روشنی میں ان کے احکام و حقوق کی قانون سازی کرتی اور انہیں نارمل زندگی گزارنے کے مواقع مہیا کرتی لیکن اس نے ایسا کچھ نہیں کیا بلکہ اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے ان کے لیے بھی اور معاشرے کے تمام مردوں اور عورتوں کے لیے بھی کبھی نہ ختم ہونے والے مسائل کا قانون پاس کر دیا .
✍️ (عمل قوم لوط"ہم جنس پرستی"عذاب الٰہی کو دعوت)
قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے عمل قوم لوط (ہم جنس پرستی) کے بارے میں شدید جلال کا اظہار فرمایا ہے، آیات کریمہ ملاحظہ ہوں.
* اور لوط کویاد کروجب انھوں نے اپنی قوم سے کہا: کیا تم ایسی بے حیائی کرتے ہوجو تم سے پہلے جہان والوں میں سے کسی نے نہیں کی تھی، بے شک تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس نفسانی خواہش کے لیے آتے ہو ،بلکہ تم (حیوانوں) کی حد سے (بھی)تجاوز کرنے والے ہو(الاعراف)
* اور ہم نے اُن پر پتھر برسائے ،سو دیکھو مجرموں کا کیسا انجام ہوا (الاعراف)
* پس جب ہماراعذاب آ پہنچا تو ہم نے اس بستی کا اوپر والا حصہ نیچے والا بنادیا اور ہم نے ان کے اوپر لگاتار پتھر کے کنکر برسائے جوآپ کے ربّ کی طرف سے (اپنے ہدف کے لیے) نشان زَدہ تھے اور یہ سزا ظالموں سے کچھ دور نہ تھی (ہود)۔
* رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: مجھے اپنی امت کی بربادی کا جس چیز سے زیادہ خوف ہے ،وہ قومِ لوط کا عمل ہے۔ (سنن ترمذی)
✍️ (قوم کا فرض)
مذکورہ تفصیلی وضاحت کے بعد اب یہ قوم کا اجتماعی فریضہ ہے کہ وہ فوری طور پر کراس جینڈر کے ملعون شیطانی قانون کے خلاف اٹھ کھڑی ہو اور حکومت کو مجبور کرے کہ علماء کرام اور مذہبی تنظیمات کے نمائندوں نے اس قانون کے حوالے سے جو ترمیمی بل جمع کروایا ہے اسے فی الفور پاس کیا جائے اور اس لعنت سے قوم کی جان چھڑوائی جائے. ورنہ عذاب خداوندی بہت سخت ہے، وہ حکومت سمیت ساری قوم کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا. علماء کرام کا فرض ہے کہ وہ اپنے بیانات میں اس حوالے سے شعور بیدار کریں.
.jpeg)