*(1) ...* اپنے بڑوں کی خدمت اور چھوٹوں کا ادب کریں ہمیں اکثر شکایت رہتی ہے کہ بچے بات نہیں سنتے آج سے بچوں کا بھی احترام کرنا شروع کر دیں ان کی باتیں غورسے سنیں وہ بھی ہماری سنیں گے ہم سے محبت کریں گے
*(2) ...* مل جل کام کریں اگر میاں بیوی میں سے کسی کومدد کی ضرورت ہے تو ان کا خیال رکھیں
*(3) ...* جب محبت میں تھوڑی کمی محسوس ہونے لگے توایک دوسرے کو تحفہ دیں اچھے ناموں سے پکاریں زبان سے محبت کا اظہار کریں اور یہ تو کبھی نہ سوچیں کہ زبان سے اظہار کیا تو یہ سر پر چڑھ جائیں گے یاد رکھیں ہمیشہ محبت ہی دلوں پر راج کرتی ہے ایک دوسرے کو قابو کرنے کا خیال دل سے نکال دیں میاں بیوی دونوں ہی ایک دوسرے کا خیال رکھ کر ایک دوسرے کی بات مان کر ہی پر سکون زندگی گزار سکتے ہیں.
*(4) ...* آپ پر ایک بیوی/شوہر ہونے کی حیثیت سے ایک ماں ہونے کی حیثیت سے جو ذمہ داریاں ہیں انہیں اچھے طریقے سے نبھائیں.
*(5) ...* کوئی بات سنیں تو پہلے تحقیق کر لیں.
*(6) ...* اگر کسی کے ساتھ جھگڑا ہے تو صلح کی طرف قدم اٹھائیں.
*(7) ...* کسی کا مذاق نہ اڑائیں.
*(8) ...* کسی پر الزام نہ لگائیں.
*(9) ...* کسی کے بھی برے برے نام نہ رکھیں.
*(10) ...* بدگمانی سے بچیں مثلا میاں اپنی امی جان کے ساتھ بیٹھے ہیں تو یہ سوچنا کہ میری ہی برائیاں کر رہے ہوں گے اور اگر بہو فون پر بات کر رہی تو یہ سوچنا یقیناً ماں کو سٹوریاں سنا رہی ہو گی.
*(11) ...* کبھی کسی کی جاسوسی نہ کریں لوگوں کے ظاہر پر ہی قیاس کریں.
*(12) ...* غیبت کو زندگی سے بالکل نکال دیں اور یہ ایسی بیماری ہے جس کا ہمیں احساس بھی نہیں ہے کہ یہ گناہ ہے.
*ہم ہمیشہ دوسروں کو بدلنا چاہتے ہیں اور خود پر کام نہیں کرتے آج دوسروں کو چھوڑ کر خود پر کام کرنا شروع کر دیں آپ کی اچھائی سے دوسرے بھی بدلنے لگیں گے ان شاء اللہ.*
*یقین کیجئے حق دینے سے حق ملتا ہے محبت دینے....سے محبت ملتی ہے.. ہمارا مسئلہ یہ ہے.... کہ صرف لینا چاہتے ہیں اور اپنی اولاد کو بھی یہی سکھا رہے ہیں..... اور ایک یا دو دن کسی کو حق یا محبت دے ہم اس سے ساری زندگی کی وفاداری چاہتے ہیں.. اور ایسا ہوتا نہیں ہے*
.jpeg)