معذرت کے ساتھ قرآن خوانی اور ایصال ثواب کی برکتیں ضرور لیکن۔۔۔۔!
کتنی افسوس کی بات ہے کہ دو لفظ تعزیت کے تو ٹھیک طرح سے بولنے آتے نہیں اور سیاسی تھیٹر ایسے سجا کہ بیٹھ جاتے ہیں کہ فوتگی پر نہیں الیکشن کمپین پر آئے ہوں،،
جس کے سر سے باپ کا سایہ اٹھا ہے کوئی اس کی بھی تو دلجوئی کرے، اس کے غم کا مداوا بھی تو کوئی کرے، لیکن ہمیں کسے کے غم سے کیا؟ ہم تو "رسم دکھاوا" کے لیے گئے ہیں، ہماری بلا سے کوئی مرتا ہے تو مرے،
🔹 ہم تو پوچھیں گے کہ بھائی جی کھانے کا انتظام ہو گیا نا؟؟ کتنی دیگیں بنوانی ہیں؟؟ 6 دیگیں تو کم ہیں، برادری بھی ہے محلے داری بھی ہے.
وہ بیچارہ باپ کے سوگ کو بھول کر اس پریشانی میں لگ جاتا ہے کہ کہاں سے قرض پکڑوں، کیونکہ کھانا صحیح نا بنایا تو باتیں ہوں گی ساری زندگی باپ کا کھایا مرنے پر روٹی بھی صحیح نا دے سکا؟؟
🔹 ہمیں سوچنا چاہیئے کہ کیسے مسلمان ہیں ! کیا اسلام ہمیں ایسی گھٹیا حرکتیں کرنے کی اجازت دیتا ہے۔؟
جانوروں کا بھی کوئی مر جائے تو وہ ایسے دعوتیں نہیں اڑاتے اور اشرف المخلوقات کا تاج پہن کر حیوانیت کی ساری حدیں عبور کر جانا..کہاں کی انسانیت ہے
🔹 میں نے میت کے گھر میں ایسی آوازیں بھی سنی ہیں جو دیگ پر بانٹنے میں لگا ہو تا ہے اسے کہا جاتا ہے "ذرا پلیٹ میں 4 بوٹیاں زیادہ ڈال دینا وہ داماد بھی آیا ہے تو اسے کھانا دینا ہے"
🔹 وہ بیٹی جو ماں یا باپ کی میت پر رو رو کر ہلکان ہو رہی تھی جیسے ہی جنازہ اٹھتا ہے تو وہ سارا غم پس پشت ڈال کر کھانا تقسیم میں کرنے لگ جاتی ہے کہ سسرال والے بھی آئے ہیں، انہیں کھانا نہ ملا تو ساری زندگی باتیں سننے کو ملیں گی کہ تیرے باپ کی میت پر تو ہمیں کھانا بھی نہیں پوچھا کسی نے...
🔹 میں نے اس بات پر بھی تبصرے سنے ہیں کہ سالن میں تو "تری" (گھی) ہی نہیں تھا، ہماری پلیٹ میں تو بس شوربا ہی آیا،..
🔹 ہم بحیثیت معاشرہ ظالم بن گئے ہیں، خوشیاں تو کجا ہم نے مرگوں کو بھی اپنے "شریکے" پورے کرنے کے لیے ایک ایونٹ بنا لیا ہے..
*جب میں کہتا ہوں الٰہی میرا احوال دیکھ*
*حکم ہوتا ہے بندے ذرا نامہ اعمال دیکھ*
کچھ سوال آپ کے ضمیر کےدروازے پر چھوڑ رہا ہوں
🔹 کیا ہم فوتگی کے کھانے کا بائیکاٹ نہیں کر سکتے؟
کیا ہم بھوک لگنے پر بازار سے کھانا نہیں کھا سکتے؟
کیا ہم گھر میں ایسا اصول نہیں بنا سکتے کہ خاندان میں کوئی کسی فوتگی پر نہیں کھائے گا؟؟
سوچیے گا ضرور...
میت کے گھر والے اس دن غم اور مصیبت میں ہوتے ہیں، اس دن ان پر علاقہ والوں کو کھانا کھلانے کی ذمہ داری ڈالنا ظلم اور غلط رسم ہے۔
جب کسی کے گھر میت ہوجائے تو اس کے رشتہ داروں اور پڑوسیوں کو چاہیے کہ اہلِ میت کے لیے کھانا تیار کرکے ان کے گھر بھیجے ، یہ عمل مسنون ہے ۔
"
عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا مَاتَ المَيِّتُ مِنْ أَهْلِهَا، فَاجْتَمَعَ لِذَلِكَ النِّسَاءُ، ثُمَّ تَفَرَّقْنَ إِلَّا أَهْلَهَا وَ خَاصَّتَهَا، أَمَرَتْ بِبُرْمَةٍ مِنْ تَلْبِينَةٍ فَطُبِخَتْ، ثُمَّ صُنِعَ ثَرِيدٌ فَصُبَّتِ التَّلْبِينَةُ عَلَيْهَا، ثُمَّ قَالَتْ: كُلْنَ مِنْهَا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: التَّلْبِينَةُ مُجِمَّةٌ لِفُؤَادِ المَرِيضِ، تَذْهَبُ بِبَعْضِ الحُزْنِ."
(صحيح البخاري:5417)
ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے کہ جب کسی گھر میں کسی کی وفات ہو جاتی اور اس کی وجہ سے عورتیں جمع ہوتیں اور پھر وہ چلی جاتیں ، صرف گھروالے اورخاص خاص عورتیں رہ جاتیں تو آپ ہانڈی میں "تلبینہ " پکانے کا حکم دیتیں ، وہ پکایا جاتا، پھر ثرید بنایا جاتا اور تلبینہ اس پر ڈالا جاتا ، پھر ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتیں کہ اسے کھاؤ؛ کیوں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ فرماتے تھے: تلبینہ مریض کے دل کو تسکین دیتا ہے اور اس کا غم دور کرتا ہے ۔
*لہذا مذکورہ رسم سے اجتناب کرنا چاہیے، ہاں! میت والے گھر کے پڑوسیوں وغیرہ کو چاہیے کہ وہ اس دن میت کے اہلِ خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام کریں، اور جو مسافر دور سے آئے ہوں، جن کے لیے اس دن یا ایک دو دن تک واپس لوٹنا ممکن نہ ہو، اور کھانے کا متبادل انتظام نہ ہو، ان کے لیے اس کھانے میں سے کھانے کی اجازت ہوگی۔ فقط واللہ اعلم*
اللہ پاک ہم سب کو ہدایت فرماۓ۔۔آمین،،
.jpeg)