✍️ مولانا محمد عمران عطّاری صاحب۔
(ماہنامہ فیضانِ مدینہ، جون 2021)
ایک شخص نے نیا بزنس شروع کیا، شروع میں تو اس کا بزنس بہت اچھا چلتا رہا مگر کچھ عرصے کے بعد ادھار کے لین دَین میں اسے پریشانی کا سامنا شروع ہوگیا کیونکہ ادھار واپس کرنے والوں کی اکثریت نے حیلے بہانے کرنے شروع کردئیے تھے، جس کی وجہ سے اس کا بزنس ٹَھپ ہونا شروع ہوگیا۔ اس دوران وہ کاروباری نقصانات کی دیگر وجوہات کے بارے میں تو سوچتا رہا مگر حقوقُ اللہ میں کوتاہی کی طرف اس نے توجہ نہ کی۔
ایک دن ایک کتاب پڑھتے ہوئے اس کی نظر کچھ اس طرح کی تحریر پر پڑی کہ تم اپنے رب سے التجا کرتے ہو کہ تمہارا رب تمہارے حالات تمہاری چاہت کے مطابق بہتر کردے، تو جہاں تم یہ چاہتے ہو تو کبھی تم نے یہ سوچا کہ تمہارا رب تم سے کیا چاہتا ہے؟ کیا تم وہ کر رہے ہو جو تم سے تمہارے رب نے فرمایا ہے؟ اس بات کو پڑھ کر اس بزنس مین کو خیال آیا کہ ہو نہ ہو یہ کتاب، یہ صفحہ اور یہ تحریر میرے لئے کوئی غیبی چیز اور ہدایت کا کوئی پیغام ہے۔ بالآخر اس نے اپنے رب کی بارگاہ میں سچی توبہ کی اور آئندہ اپنے رب کی نافرمانی نہ کرنے کا عہد کیا، پھر اپنے رب سے اپنے حالات کی بہتری کی دُعا کی۔
اللّٰہ پاک کے کرم سے تھوڑے ہی عرصے بعد اس کے حالات بہتر ہونا شروع ہوگئے اور اُدھار کی وصولیاں ہونا شروع ہوگئیں کیونکہ اس نے خود کو اس رَبّ کے حکم کے مطابق بدل لیا تھا جو دِلوں کو پھیرنے والا ہے۔
اے عاشقانِ رسول! جب انسان اپنے حالات کے بدلنے کی تڑپ اور طلب رکھتا ہے تو اس کے لئے پہلے وہ خود کو کیوں نہیں بدلتا؟ یقین مانیئے کہ انسان اگر خود کو اللہ کریم کے دیئے ہوئے احکامات کے مطابق بدل لے اور احكامِ اِلٰہیہ پر عمل کرتے ہوئے حقوقُ اللہ کی ادائیگی کرے تو اللہ کریم بہت رحم و کرم فرمانے والا ہے اور جب اللہ ربُّ العزّت اپنی رحمت کا نزول فرمائے گا تو بھلا کہاں کی پریشانیاں اور کہاں کی آزمائشیں! قراٰنِ کریم میں فرمانِ ربِّ رحیم ہے:
*ترجمۂ کنزُ الایمان: اور اللہ و رسول کے فرمانبردار رہو اِس امید پر کہ تم رحم کئے جاؤ۔*
📖 القران، اٰل عمرٰن: 132
آج ہم شب و روز جن آزمائشوں اور پریشانیوں کا شکار ہوکر اپنے رب سے دعا کر رہے ہوتے اور اس سے اپنی مرادیں مانگ رہے ہوتے ہیں تو ہم ذرا غور بھی تو کریں کہ اس ربِّ کریم کے کتنے فرامین اور احکامات پر ہم نے عمل کیا؟
اعلیٰ حضرت امام اہلِ سنّت شاہ امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہِ علیہ نے اس حوالے سے ہم جیسوں کو جو سمجھایا ہے اسے آسان کرکے عرض کرنے کی کوشش کرتا ہوں:
ذرا اپنے گَریبان میں جھانکو! اگر تُمہارا کوئی دوست تم سے ہزار بار کچھ کام اپنے کہے اور تُم اُس کا ایک کام نہ کرو تو اپنا کام اُس سے کہتے ہوئے اَوّلاً تو خود ہی ہچکچاؤ گے اور شرماؤ گے کہ میں نے تو اُس کا کہنا مانا ہی نہیں اب کِس مُنہ سے اُس سے کام کو کہوں؟ اور اگر بےمُروَّت ہو کر کہہ ہی دیا اور اس نے نہ کیا تو بھی اعتراض اور شکایت کرنا مناسب نہ سمجھو گے اور خود ہی سوچو گے کہ جب ہم نے کبھی اس کی بات نہیں مانی تو اس کے نہ ماننے پر شکایت کیسے کریں۔ اب سوچو کہ دونوں جہاں کے پالنے والے ربُّ العالمین کے کتنے احکام پر تم عمل کرتے ہو؟ اس کے احکام پر عمل نہ کرنا اور اپنی مرادیں ہر صورت پوری ہونے کی خواہش رکھنا کیسی بےحیائی ہے!
📖 فضائل دعا، ص101 ملخصاً
واقعی ہم اپنی حالت کو دیکھ لیں کہ نماز ہم سے پڑھی جاتی ہے یا نہیں؟ فرض روزے ہم سے رکھے جاتے ہیں یا نہیں؟ زکوٰۃ واجب ہونے کے باوجود ہم پوری ادا کرتے ہیں یا نہیں؟ قربانی لازم ہونے کے باوجود ہم کرتے ہیں یا نہیں؟ سچ ہم بولتے ہیں یا نہیں؟ جھوٹ ہم سے چھوٹا یا نہیں؟ بدگمانی ہم نے چھوڑی یا نہیں؟ گانے باجوں فلموں ڈراموں اور بدنگاہی سے ہم دور ہیں یا نہیں؟ احکامِ اسلام پر عمل اور حقوقُ اللہ کی ادائیگی میں ہماری کیفیت کیا ہے؟ پچھلے زمانے کے لوگ حقوقُ اللہ کی ادائیگی اور ان میں بھی بالخصوص نماز کا کس قدر اہتمام کرتے تھے اس کی ایک جھلک ملاحظہ کیجئے:
*حجۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام ابو حامد محمد بن محمد غزالی رحمۃُ اللہِ علیہ لکھتے ہیں:*
(اسلاف میں ایسے نیک لوگ تھے کہ) اُن میں سے جو لوہار ہوتا تھا وہ اگر ضَرب (یعنی چوٹ) لگانے کے لئے ہتھوڑا اُوپر اٹھائے ہوئے ہوتا اور اِسی حالت میں اذان کی آواز سنتا تو اب ہتھوڑا لوہے وغیرہ پر مارنے کے بجائے فوراً رکھ دیتا نیز اگر موچی یعنی چمڑا سینے والا سُوئی چمڑے میں ڈالے ہوئے ہوتا اور جُوں ہی اذان کی آواز اُس کے کانوں میں پڑتی تو سُوئی کو باہَر نکالے بِغیر چمڑا اور سُوئی وَہیں چھوڑ کر بِلاتاخیر مسجِد کی طرف چل پڑتا۔ یعنی اُٹھے ہوئے ہتھوڑے کی ایک ضَرب لگا دینا یا سُوئی کو دوسری طرف نکالنا بھی اُن کے نزدیک تاخیر میں شامل تھا حالانکہ اِس میں وَقت ہی کتنا لگتا ہے!
📖 کیمیائے سعادت، 1 / 339
اے عاشقانِ رسول! ہم تو آئے دن مشکلات کے بَھنْوَر میں پھنسے اور پریشانیوں کے جالوں میں گرفتار رہتے ہیں، اللہ پاک کے سوا کون ہے جو ہمیں مشکل اور پریشانی سے آسانی کی طرف لائے گا، تکلیف سے راحت کی طرف لائے گا، وہ کریم رب فرماتا ہے:
*ترجمۂ کنزُ الایمان: مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا۔*
📖 القران، المؤمن: 60*'
`مگر اس کے لئے ہمیں اس راستے کو بھی اختیار کرنا پڑے گا کہ جس سے ہماری دعائیں قبول ہوں اور ہمارے حالات بہتر ہوں۔
میری تمام عاشقانِ رسول سے فریاد ہے! ہمارے گھریلو، کاروباری، جسمانی، روحانی اور دیگر معاملات بہتر کرنے والی ذات اللہ پاک ہی کی ہے، لہٰذا اپنے حالات کی بہتری کے لئے، رب کی رحمت اور اس کے کرم کو پانے کے لئے، اپنی دعاؤں کی قبولیت کے لئے ہمیں تقویٰ اور پرہیزگاری کو اختیار کرنا ہوگا، گناہوں کے راستے کو چھوڑ کر نیکی کی راہ کو اپنانا ہوگا کہ`
*ترجمۂ کنزالایمان: بےشک اللہ کی رحمت نیکوں سے قریب ہے۔*
📖 القران،الاعراف: 56
اللہ پاک ہمیں اپنے حالات کی بہتری کے لئے خود کو بہتر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین
خود بھی عمل کیجئے اور زیادہ سے زیادہ شیئر بھی کیجئے۔
*🌹منتخب اردو تحریریں🌹*
.png)