کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ عدت ِوفات کے کتنے دن ہوتے ہیں ؟عدت گزارنے کا طریقہ کیا ہےاور اس میں پردے کا کیا حکم ہے ؟ہمارے ہاں بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ وفات کی عدت چالیس دن ہوتی ہے ۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
*عدتِ وفات چار مہینے دس دن ہے ،جبکہ عورت شوہر کے انتقال کے وقت حاملہ نہ ہو۔اگر چاند کی پہلی تاریخ کو شوہر کا انتقال ہوا ہے،تو چاند سے مہینے لئے جائیں گے اور اگر کسی اور تاریخ کو انتقال ہوا ہے،تو پورے 130دن گزارنے ہوں گے۔اگر عورت حاملہ ہو،تواس کی عدت بچہ جننے تک ہے۔جن لوگوں نے کہا کہ عدتِ وفات چالیس دن ہے، ان کا کہنا غلط ہے ۔*
*اس سے توبہ کرنا ان پر ضروری ہے کہ بغیر تحقیق اپنی اٹکل سے شرعی مسئلہ بتانا،ناجائز وگناہ ہے۔ قرآن پاک میں واضح طور پر غیرحاملہ کی عدتِ وفات چار ماہ دس دن اور حاملہ کی عدت بچہ جننے تک بیان کی گئی ہے، جس کا بیان نیچے آتاہے ۔*
*عدتِ وفات اور طلاق بائن کی عدت میں سوگ کاحکم ہے ۔*
*سوگ کے یہ معنی ہیں کہ عورت زینت کوترک کرے ۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ اس دوران معتدہ کسی قسم کے زیورات نہیں پہن سکتی۔ خوشبو کا استعمال کپڑے یا بدن پر نہیں کرسکتی۔ اسی طرح تیل سے بالوں کو سنوار نہیں سکتی نہ ہی آنکھوں میں سرمہ لگا سکتی ہے۔الغرض عدت کے دوران ہر طرح کی زینت اختیار کرنا ، ناجائز ہے،مگر یہ کہ ضرورت کی وجہ سے ہو ،مثلاً سر میں تیل نہ لگانے کی وجہ سے درد ہو،تو تیل لگانا یا آنکھوں میں درد ہو،تو سرمہ لگانا یوں ہی سر میں درد کی وجہ سے موٹے دندان والی طرف سے کنگھی کرنا وغیرہ کی شرعاً اجازت ہے* ۔
جیسا کہ معتمد کتبِ فقہ میں موجود ہے ۔
پردہ کاوہی حکم ہے، جوعدت کے علاوہ حکم ہوتاہے یعنی جن لوگوں سے عدت کے علاوہ پردہ ہے ،ان سے عدت میں بھی پردہ ہوگااور جن لوگوں سے عدت کے علاوہ پردہ نہیں ،ان سے عدت میں بھی پردہ نہیں۔عدت کی وجہ سے پردے کے الگ احکام نہیں ۔
نیز
*عورت کیلئے یہ بھی ضروری ہے کہ عدت شوہر کے گھر ہی پر گزارے۔ بلا ضرورتِ شرعیہ اس گھر سے نکلنا ناجائز ہے۔*
یہ عدت کے مختصراً احکام بیان ہوئے،مزید تفصیل جاننے کےلیے کتبِ فقہ بالخصوص’’بہارِشریعت جلد2،حصہ 8‘‘کا مطالعہ فرمائیں۔
الله تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: *﴿وَالَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَیَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِھِنَّ اَرْبَعَۃَ اَشْھُرٍوَّ عَشْرًا ﴾*
ترجمۂ کنزالایمان :
*’’اورتم میں جومریں اور بیبیاں چھوڑیں، وہ چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں ۔‘‘*
(سورۃ البقرۃ، آیت 234)
الله تعالیٰ ارشاد فرماتاہے: *﴿وَاُولَا تُ الْاَ حْمَالِ اَجَلُھُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَھُنَّ ﴾*
ترجمہ کنزالایمان”
*اور حمل والیوں کی میعاد یہ ہے کہ وہ اپنا حمل جن لیں ۔‘‘*
(سورۃ الطلاق ، آیت4 )
عدت کے ایام کے متعلق علامہ ابن نجیم حنفی رحمہ الله فرماتے ہیں:
*’’اذااتفق عدۃ الطلاق والموت فی غرۃ الشھر اعتبرت الشھوربالأھلۃ وان انقصت عن العدد،وان اتفق فی وسط الشھرفعندالامام تعتبربالأیام فتعتدفی الطلاق بتسعین یوماً ،وفی الوفاۃ بمائۃ وثلاثین یوماً “*
*یعنی جب عدت طلاق اور وفات کے آغاز کا اتفاق چاند کی پہلی کو ہوتو قمری مہینوں کا اعتبار کیا جائے گا۔اگرچہ تعداد میں ایام کم ہوجائیں اور اگر مہینے کے درمیان میں ہو ، تو امام اعظم رحمہ الله کے نزدیک ایام کا اعتبار کیا جائے گا اس صورت میں عورت طلاق میں نوے دن بیٹھے گی اور وفات میں ایک سو تیس دن ۔‘‘*
(البحرالرائق جلد4،صفحہ 223،مطبوعہ کوئٹہ)
*حضرت ابوسعید خدری رضی الله تعالیٰ عنہ کی ہمشیرہ حضرت فریعہ بنت مالک کے شوہر کواُ ن کے غلاموں نے قتل کر ڈالا تھا،وہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرتی ہیں کہ مجھے میکے میں عدت گزارنے کی اجازت دی جائے کہ میرے شوہر نے کوئی اپنا مکان نہیں چھوڑا اور نہ خرچ چھوڑا۔اجازت دیدی پھر بُلاکر فرمایا:” امکثی فی بیتک حتی یبلغ الکتاب اجلہ قالت فاعتددت فیہ اربعۃ اشھروعشرا “*
*اُسی گھرمیں رہوجس میں رہتی ہو،جب تک عدت پوری نہ ہو۔حضرت فریعہ فرماتی ہیں: پھرمیں نے اسی گھرمیں چارماہ دس دن عدت گزاری۔‘‘*
(جامع ترمذی ، ابواب الطلاق ،باب ماجاء این تعتدالمتوفی عنھازوجھا ، جلد1 ، صفحہ359، مطبوعہ لاهور)
*عدت کہاں گزارے گی؟*
اس حوالے سے الاختیار میں ہے :
*’’وتعتد في البيت الذي كانت تسكنه حال وقوع الفرقة إلا أن ينهدم أو تخرج منه أو لا تقدر على أجرته فتنتقل “*
*یعنی عورت عدت اُس گھر میں گزارے گی جس میں وقوع ِفرقت کے وقت رہ رہی تھی ،البتہ اگر وہ گھر منہدم ہوجائے یا اُسے گھر سے نکال دیا جائے یا وہ کرائے کا مکان ہے مگر یہ اُس کی اجرت دینے پر قادر نہیں تو اس صورت میں اس گھر سے نکل سکتی ہے* ۔
(الاختیار جلد2،صفحہ 227 ،مطبوعہ پشاور)
صدرالشریعہ بدرالطریقہ حضرت علامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ الله القوی فرماتے ہیں:
*’’موت یافُرقت کے وقت جس مکان میں عورت کی سکونت(رہائش)تھی اُسی مکان میں عدت پوری کرے اوریہ جوکہاگیاہے کہ گھرسے باہرنہیں جاسکتی اس سے مراد یہی گھرہے اوراس گھر کو چھوڑ کر دوسرے مکان میں بھی سکونت نہیں کرسکتی مگربضرورت آج کل معمولی باتوں کوجس کی کچھ حاجت نہ ہومحض طبیعت کی خواہش کوضرورت بولاکرتے ہیں وہ یہاں مرادنہیں بلکہ ضرورت وہ ہے کہ اُس کے بغیرچارہ نہ ہو۔‘‘*
(ملخص از بھارشریعت حصہ8،ج2 ،ص245، مکتبۃ المدینہ،باب المدینہ کراچی )
بہارشریعت میں سوگ کی تفصیل لکھتے ہوئے صدر الشریعۃ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں:
*’’سوگ کے یہ معنی ہیں کہ زینت کو ترک کرے یعنی ہرقسم کے زیور چاندی سونے جواہر وغیرہا کے اور ہر قسم اور ہررنگ کے ریشم کے کپڑے اگرچہ سیاہ ہوں نہ پہنے اورخوشبو کابدن یاکپڑوں میں استعمال نہ کرے اورنہ تیل کااستعمال کرے اگرچہ اُس میں خوشبو نہ ہو جیسے روغن زیتون اورکنگھاکرنا اورسیاہ سرمہ لگانا۔یوہیں سفیدخوشبودارسرمہ لگانااورمہندی لگانا اور زعفران یاکُسم یا گیرہ کارنگاہوایاسُرخ رنگ کاکپڑاپہننامنع ہے۔ ان سب چیزوں کاترک واجب ہے۔ جس کپڑے کارنگ پراناہوگیاکہ اب اس کاپہننازینت نہیں اُسے پہن سکتی ہے۔یوہیں سیاہ رنگ کے کپڑے میں بھی حرج نہیں جبکہ ریشم کے نہ ہوں۔‘‘*
(بہارشریعت جلد1، صفحہ245،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ ، کراچی)
منقول
*🌹منتخب اردو تحریریں🌹*
.jpeg)