*حضرت سَیِّدُنا اِمام غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ الوَالِی فرماتے ہیں:*
دوست کا ایک حَق یہ بھی ہے کہ اسے اَچھّی بات بتائی جائے اور نصیحت کی جائے کیونکہ دوست کو عِلْم کی بھی اتنی ہی حاجَت ہوتی ہے جس قَدْر کہ مال کی۔
اگر آپ کا سینہ عِلْم کے زیور سے آراستہ ہے تو آپ پر لازِم ہے کہ اپنے دوست کو ہر وہ بات بتائیے جس کی اسے دین و دنیا میں حاجَت ہے۔
عِلْم سِکھانے اور رہنمائی کے بعد اگر وہ عِلْم کے مُطابِق عَمَل نہ کرے تو اب آپ پر لازِم ہے کہ اسے نصیحت کیجئے، وہ جن کاموں میں مبتلا ہے ان کی آفات اور تَرْک کرنے کے فوائد بتائیے اور ان کاموں کی وجہ سے دنیا و آخِرَت میں ہونے والے نقصانات بیان کر کے بھی اسے ڈرائیے تاکہ وہ اپنی مَذمُوم حرکات سے باز آئے، اس کے عُیُوب پر اسے تنبیہ کیجئے، بُرے اَفعال کی بُرائی اور اَچھّے اَفعال کی اَچھّائی اس کے دِل میں راسِخ کیجئے،
لیکن یہ تمام کام تنہائی میں کیجئے کہ اس پر کوئی اور مُطّلَع نہ ہو کیونکہ جو کلام لوگوں کے مَجْمع میں کیا جائے اسے ڈانٹ ڈپٹ اور بے عزّتی شُمار کیا جاتا ہے اور جو بات تنہائی میں کی جائے وہ شفقت اور نصیحت سمجھی جاتی ہے۔
*حضرت سیِّدُنا اِمام شافعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْکافی فرماتے ہیں:*
جس نے اپنے مسلمان بھائی کو تنہائی میں سمجھایا اس نے اسے نصیحت کی اور زِیْنَت بخشی اور جس نے سب کے سامنے سمجھایا اس نے اسے رُسوا و بدنام کیا۔
📖 احیاء علوم الدین، 2 / 225
.jpeg)