میرا اور یاسر کا بچپن ایک ساتھ ہی گزرا اسکول کے بعد ایک ہی کالج میں تعلیم حاصل کی اور پھر عملی زندگی میں قدم رکھا میں ایک نے سرکاری محکمے میں جبکہ یاسر نے ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں ملازمت شروع کی۔جلدی یاسر کی شادی ہوگئی یاسر کی بیوی سلمیٰ بہت بولڈ تھی چند ہی دنوں میں میں ہم گھل مل گئے اکثر ایک ساتھ ہی بیٹھ کے ہنسی مذاق کر رہے ہوتے سلمی انتہائی خوبصورت اور گوری تھی اور متناسب جسم کی مالک تھی میں اس کے نشیب و فراز کا جائزہ لیتا رہتا جو اس کی نظروں سے چھپا نہ رہا لیکن وہ نظر انداز کرتی رہی اس کی مست جوانی حاصل کرنے کی خواہش میرے اندر بڑھتی ہی جا رہی تھی ایک دن جب ہم بیٹھے باتیں کر رہے تھے یاسر فون پر بات کرنے کے لیے کمرے سے باہر نکل گیا تو وہ بولی
شارق آپ مجھے کیوں اس طرح گھور گھور کے دیکھتے رہتے ہیں
تو میں نے بھی ہمت کرکے یہ کہہ دیا
تم ہو ہی اتنی مست کی نظریں نہیں ہٹتی
تو اس نے مصنوعی خفگی کا اظہار کیا اور بولی شریر
کیوں تمھارے حسن کی تعریف کرنا غلط ہے کیا
میں بولا
تو وہ بولی
میں تمہارے دوست کی بیوی ہوں شرم نہیں آتی اپنے دوست کی بیوی پر بری نظر رکھتے ہوئے
اتنے میں یاسر بھی کمرے میں داخل ہوگیا اور پھر ہم نے بات بدل دی میں نے جو تیر چلایا تھا وہ نشانے پر لگا تھا میں نے مزید آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا اور وقت کا انتظار کرنے لگا اس دوران میرے رشتے کا بھی سلسلہ شروع ہوا اور جلد ہی میری شادی کا پروگرام بھی بن گیا
ایک دن میں میں یاسر کے گھر پہنچا تو پتہ چلا یاسر مارکیٹ گیا ہوا ہے میں گھر میں داخل ہوگیا سلمی اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ گھر میں موجود تھی وہ اتنی خوبصورت اور سیکسی لگ رہی تھی کہ تعریف کیے بغیر نہ رہ سکا اور ہاتھ کے اشارے سے اس کی تعریف کی جوابا اس نے مجھے گھور کے دیکھا
کیا ہے؟
میں نے کہا
ہاں تمہاری تعریف کر رہا ہوں بہت سیکسی لگ رہی ہو
بہت ہی بے شرم آدمی ہو تم
کیوں میں نے کیا بے شرمی کی ہے تمہاری تعریف ہی تو کی ہے ورنہ اتنی سیکسی تم آج لگ رہی ہو تو تمہیں چوم لینا چاہیے
وہ شرم سے سرخ ہو گئی میں نے سوچا لوہا گرم ہے ایک چوٹ مار دینی چاہیے میں نے اس کے شانے پہ ہاتھ رکھا اور دوسرے ہاتھ اس کی تھوڑی پہ ہاتھ رکھ کر چہرہ اٹھایا اور پھر اس کے ہونٹوں کو چوم لیا
اس نے آہ کر کے اپنا ہاتھ اپنے ہونٹوں پر رکھ لیا اور دوسرے ہاتھ سے میرے سینے پر گھونسے مارتے ہوئے پیچھے ہٹ گئی
اتنے میں یاسر گھر میں داخل ہوا سلمی کچن میں چلی گئی اور ہم دونوں بیٹھ کر باتیں کرتے رہے تھوڑی دیر بعد سلمی چائے لے کر ڈرائنگ روم میں آئی ہم چائے پی رہے تھے میں کن انکھیوں سے سلمی کو دیکھ رہا تھا اور مجھے دیکھ کر شرما رہی تھی میں بہت خوش تھا وہ میرے جال میں پھنس چکی تھی جب یاسر فریش ہونے واش روم گیا تو سلمی بولی
کیوں صبر نہیں ہو رہا کیا اگلے مہینے تو تمہاری شادی ہے
کیوں میں نے ایسا کیا کر دیا میں بولا
کیوں اب کیا کرنا رہ گیا ہے
تو میں بولا
ابھی تو صرف ہونٹوں کو چوما ہے ابھی تو بہت کچھ باقی ہے
بہت بے ہودہ ہو۔ وہ بولی
تو میں بولا جب بےہودگی کروں گا تب بولنا
یاسر واپس آ چکا تھا
کیا بات ہو رہی ہیں دیور بھابھی میں
میں نے کہا کچھ نہیں ایسے ہی بس اب میں چلتا ہوں مجھے کچھ کام یاد آگیا ہے
یہ کہہ کر میں وہاں سے چلا آیا مجھے یہ امید نہ تھی سلمی میری اتنی سی کوشش میں پکے ہوئے پھل کی طرح میری جھولی میں آ گرے گی اب میں وقت کا انتظار کر رہا تھا جو مجھے جلد ہی مل گیا یاسر کی اگلے ہفتے نائٹ شفٹ تھی جس کا مجھے علم تھا اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میں ایک دن رات کو یاسر کے گھر پہنچ گیا سلمی مجھے دیکھ کر حیران رہ گئی
یاسر کی تو نائٹ شفٹ ہے وہ گھر پر نہیں ہیں
تو آپ تو ہیں میں نے کہا
سلمی پیچھے ہٹی اور مجھے اندر آنے کو کہا اور میں گھر میں داخل ہوا
کیا پیئیں گے سلمی نے مجھ سے پوچھا
میں نے کولڈ ڈرنک کا کہا اور سلمی کیچن کی طرف چلی وہ اس وقت نائٹی پہنی ہوئی تھی جو ایک ٹراؤزر اور شرٹ پر مشتمل تھی اور اس سوٹ میں وہ قیامت لگ رہی تھی میں بھی اس کے پیچھے پیچھے کچن میں داخل ہوگیا اس نے فریج میں سے کولڈ ڈرنک نکالی اور پھر گلاسوں میں انڈیلی
کیوں صبر نہیں ہو رہا وہ بولی
نہیں اب واقعی ہی صبر نہیں ہو رہا
یہ کہہ کر اس کے قریب ہوا دونوں ہاتھ اسکی کمر پر رکھ کو اپنے قریب کرلیا اس کے ہونٹوں کو چوم لیا اس کی سانسیں بے ترتیب ہوگئیں
چھوڑیں نہ یہ کیا کررہے ہیں
میں نے اس کے مصنوعی احتجاج کو نظر انداز کردیا اور اس کے ہونٹ چوسنا شروع کر دیے اس کو ڈھیلا پڑتے دیکھ کر میرا حوصلہ بڑھ گیا اور میں اور پھیلنے لگا میں نے اس کے ممے دبانے شروع کر دیے اس نے مجھے مخمور نگاہوں سے دیکھا اس کی آنکھوں میں سرخ ڈورے ابھر آئے تھے وہ خود سپردگی کی کیفیت میں تھی میں نے اسکی شرٹ کو چیرا تو سارے ٹچ بٹن کھل گئے اور اس کے مست ممے ننگے ہوگئے اس دوران میں اس کے ہونٹ چوستا رہا اور پھر اس کے نرم ممے کو اپنی گرفت میں لے لیا اس کا جسم دہک رہا تھا ہونٹوں کے رس کو چھوڑ کر اب میں نے اس کے گرم ممے کو منہ میں لے لیا اور چوسنا شروع کردیا سلمی اب سسکیاں لے رہی تھی ممے کو چوستے چوستے میں نے اس کی شرٹ اتار کر نیم برہنہ کردیا اور باری باری دونوں مموں کو چوسنا اور دبانا شروع کردیا پھر کمر میں ہاتھ ڈال صوفے پر لے آیا خود بیٹھ کر سلمی کو گود میں بٹھالیا بوس وکنار کے درمیان میں اس کے ٹراؤزر میں ہاتھ ڈال دیا اور اس کی مست گانڈ جو گرم ہورہی تھی سہلانا شروع کردیا
سلمی کبھی کبھار یہ کیا کررہے ہیں رسمی طور پر کہہ دیتی
لیکن مزاحمت نہیں کررہی تھی میں مزید پھیل گیا اور اس کے جسم سے ٹروزار اتار کر مکمل برہنہ کردیا اور صوفے پر لٹا کر سرتاپا چومنا چاٹنا شروع کردیا سلمی کی آنکھیں نیم خوابیدہ انداز میں کھلی ہوئی تھیں اور جسم کپکپا رہا تھا میرے ہونٹ آہستہ آہستہ اس کی خوبصورت چکنی چوت تک پہنچ چکے تھے میں نے اس کی گلابی چوت کے لب کھول کر اس کو چاٹنا شروع کیا تواس نے صوفے کو دونوں ہاتھوں سے مضبوطی سے پکڑ لیا اس کے منہ سے آہ آہ کی آوازیں نکلنے لگی اس کی چوت پانی چھوڑ رہی تھی یعنی اب وہ چدنے کے لیے تیار تھی میں نے سلمی کو گود میں اٹھالیا اور بیڈروم میں لاکر بیڈ پر ڈال دیا اور اپنے کپڑے اتارنے لگا سلمی سرگوشی کے انداز میں مجھے بلا رہی تھی
شارق آئی لو یو
شارق پلیز جلدی آجاؤ لے لو اپنے دوست کی بیوی کو
آہ کم آن
میں بیڈ پر آیا اور فوراً اس کی ٹانگوں کو اپنے شانوں پر رکھا اور اپنے تنے ہوئے لنڈ کو ایک ہی جھٹکے میں اس کی دہکتی ہوئی چوت میں چڑھا دیا اس نے آہ کہا اور اپنے قریب کرکے میرے ہونٹوں کو چوسنے لگی جتنی گرم وہ ہورہی تھی اس سے زیادہ اس کی چوت گرم تھی یا مجھے لگ رہی تھی حالانکہ میں پہلے بھی کئی لڑکیوں کو چود چکا تھا لیکن اتنے حسین اور گرم جسم کو آج چودنے کا موقع ملا تھا اب سلمی بھی میرا ساتھ دے رہی تھی اور میرے لنڈ کو اپنی چوت میں دبوچ رہی تھی میں ایک نئی لذت سے آشنا ہو رہا تھا اور یہ لذت برداشت سے باہر ہورہی تھی میں اس کی گرمی اور اس کے یہ حملے زیادہ دیر برداشت نہ کرسکا اور میں کراہنے لگا سلمی میرے چوتڑ پکڑ کر مجھے اپنی طرف کھینچنے لگی اس لمحے میں ہار گیا اور میرے لنڈ سے گرم پانی نکلنے لگا اور سلمی کی چوت کو سیراب کرنے لگا سلمی ایک ہاتھ سے میرے چوتڑ سہلا رہی تھی اور دوسرے ہاتھ سے میرا چہرہ قریب کرکے چومنے لگی میں اس کے مموں پر ڈھیر ہوگیا چند لمحوں بعد میرا لنڈ ڈھیلا ہوکر اس کی چوت سے نکل گیا پھر میں سیدھا ہوکر لیٹ گیا سلمی نے میری طرف کروٹ لی اور میری طرف دیکھ کر شرارتی انداز میں ہنسنے لگی
کیا ہوا بہن چود بہت شوق تھا اپنے دوست کی بیوی کو چودنے کا اور لنڈ تو تمھارا اتنی جلدی فارغ ہوگیا
یہ تیرے جسم کی گرمی ہے سویٹی
تو وہ ٹھینگا دکھانے لگی میں نے اس کو اپنے سینے سے لگا لیا وہ میرے سینے کے بالوں سے کھیلنے لگی نجانے کتنا وقت گزر گیا سلمی کا ہاتھ آہستہ آہستہ میرے لنڈ پر پہنچ گیا وہ میرے لنڈ اور ٹٹوں کو سہلانے لگی اس کی چھیڑ چھاڑ رنگ لے آئی اور میرے لنڈ میں حرکت شروع ہوگئی میرے لنڈ کو کھڑا ہوتے دیکھ کر سلمی نےمیری آنکھوں میں دیکھا لنڈ کو تیزی سے رگڑنا شروع کردیا لنڈ ایک مرتبہ پھر اسی طرح تن گیا
چل آٹھ بہن چود چڑھ جا مجھ پر دکھا اپنی مردانگی آج یہ چوت تیری ہے صحیح سے اس پر اپنا حق جتا
اس کے اس طرح گالی دینے سے مجھے بہت جوش چڑھ گیا اور میں اس پر پھر چڑھ گیا اور چودنا شروع کردیا کافی دیر میں نے اس طرح چودا پھر کتیا بنادیا یہ چودنا زیادہ حسین تھا اس کی حسین مست گانڈ ہلتی ہوئی غضب ڈھا رہی میرا دل اس کی گانڈ مارنے کو مچلنے لگا میں نے چوت سے لنڈ نکالا جو اس کے پانی سے تر تھا میں نے لنڈ کی ٹوپی اس کی گانڈ کی چنٹوں پر رکھ زور لگایا اور ٹوپی کو اندر دھکیل دیا سلمی کراہی ہائے ظالم
میں آہستہ آہستہ جھٹکے مارنے لگا لنڈ اس کی گرم گانڈ میں اپنی جگہ بنانے لگا چند ہی لمحوں میں، میں اس کی گانڈ مار رہا تھا اور وہ سسکیاں بھر رہی تھی میں خوب اس کی گانڈ پر تابڑ توڑ حملے کیے مگر میرا لنڈ اس کی گرمی سے ہار گیا تو گرم پانی کے قطرے اندر ہی ٹپکادیے
آدھی رات گزر چکی تھی اور ہم دونوں بستر پر ننگے پڑے تھے میں سلمی کے گرم مموں سے کھیل رہا تھا۔ مجھے اب سگریٹ کی طلب ہونے لگی تھی میں نے سگریٹ سلگا لیا اور کش لینے لگا سلمی اٹھ بیٹھی میرے ہونٹوں کو چوما اور میرے ہونٹ چومنے کے بعد میرے سینے کو بوسے دیتے ہوئے نیچے جانے لگی بہت اچھا لگ رہا تھا میں سگریٹ کے کش لگا رہا تھا اور وہ چوم رہی تھی چومتے چومتے میرے لنڈ تک پہنچ گئی اور میرے لنڈ کو پکڑ کر چاٹنے لگی اور پھر منہ میں لے کر چوسنا شروع کردیا یہ پہلا موقع تھا اس نے میرے لنڈ کو منہ میں لیا تھا سرور کی کیفیت تھی دل چاہتا تھا کہ میرا لنڈ اس کے منہ میں ہی رہے لنڈ منہ سے نکال کر اس نے میری طرف دیکھا اور آنکھ کے اشارے سے کچھ پوچھا جو میں سمجھ نہ پایا
کیا؟ میں بولا
ابھی بتاتی ہوں کیا: بہن چود
یہ کہہ کر وہ میرے لنڈ پر بھوکی شیرنی کی طرح ٹوٹ پڑی اور جنگلیوں کی طرح لنڈ چوسنے لگی اس کے منہ کی گرمی تھی یا احساس کہ میرا لنڈ اس کے منہ میں ہے مجھے بہت مزا آرہا تھا اور مجھے ایسا لگا کہ میں فارغ ہونے والا ہوں میں نے اس کو ہٹانے کی کوشش کی مگر اس نے ایک ہاتھ سے مضبوطی سے لنڈ کو پکڑ لیا دوسرے ہاتھ سے میرے ٹٹے اور اپنے جسم کا سارا وزن ڈال کر مجھے اٹھنے کا موقع نہ دیا میں کراہنے لگا میرے کراہنے پر اس کے چوسنے میں شدت آگئی جو ناقابل برداشت تھی میں نے مزاحمت ترک کردی اور خود کو اس کے حوالے کردیا میرا لنڈ اس کے جوش کا زیادہ دیر تک مقابلہ نہ کرسکا اور اس کے منہ میں ہی لنڈ قطرے نکالنے لگا قطرے نکلتے ہی سلمی نے اور جوش سے لنڈ کو چوسنا شروع کردیا میں کراہتا رہا لیکن اس نے لنڈ چوسنا نہ چھوڑا اور ایک قطرہ بھی نیچے نہ گرنے دیا سارے کا سارے امرت سمجھ کر پی گئی۔
کافی دیر ہم ایسے ہی پڑے رہے لیکن مرغ کی بانگ سے چونکے صبح ہوچکی یاسر 7 بجے کے بعد گھر آجاتا تھا میرا فوری نکلنا ضروری تھا ہم نے کپڑے پہنے میں نے سلمی کے ہونٹوں کو چوما اور جلد ملنے کا وعدہ کرکے رخصت ہوا۔
سلمی کے ساتھ گزرے حسین لمحات کو دو ہی دن ہوئے تھے کہ سلمی کا فون آگیا
کیا حال ہیں جناب کب آرہے ہو یاد نہیں آرہی کیا میری
تمہاری یاد دل سے نکلی ہی کب ہے "ہنی"
تو پھر رات کو آجاؤ
میں آج ہی آتا ہوں
رات کو میں یاسر کے گھر پہنچ گیا اور رات بھر اس کے ہی بیڈ پر اس کی بیوی کی مست جوانی سے کھیلتا رہا یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا جب بھی سلمی کی گرم چوت پھڑکنے لگتی تو مجھے بلا لیتی اور میرے لنڈ سے پیاس بجھالیتی۔
اسی دوران میری شادی ہوگئی میری بیوی نائلہ پیدائشی رشین تھی اور چند ماہ پہلے ہی یہاں شفٹ ہوئی تھی بلا کی خوبصورت اور مکھن پیس تھی بولڈ بھی بہت تھی شادی کی پہلی رات ہی ہم نے کھل کر سیکس کیا شادی کے پہلے ہفتے تو میں گھر سے باہر ہی نہ نکلا مگر پھر آہستہ آہستہ روٹین کی لائف میں آگیا یاسر سے فون پر بات ہوجاتی تھی اس لیے اس کے گھر نہیں گیا پھر ایک دن سلمی کا فون آیا تو وہ ناراضگی کا اظہار کرنے لگی کہ
بیوی مل گئی ہے تو مجھے بھول گئے ہو
تمھیں کیسے بھول سکتا ہوں ہنی جب بلاؤ گی آجاؤں گا
جس کو مفت کے مال کا مزہ لگا ہو وہ کب چھٹتا ہے لہذا موقع کی مناسبت سے میں نے پھر یاسر کے گھر جاکر اپنی گرمی نکالنی شروع کردی ایک دن یاسر سے ملاقات ہوئی وہ کھینچا کینچھا محسوس ہوا پھر باتوں باتوں میں اس نے مجھ سے پوچھا
تم میرے گھر آئے تھے میری تو نائٹ شفٹ تھی تمھیں علم نہیں تھا کیا
میں گڑبڑا گیا پھر سنبھل کر بولا
ہاں ذہن میں نہیں رہا بھابھی نے بتایا تب یاد آیا
اور بات گھمادی بعد میں ایک واقف کار سے پتہ چلا کہ کسی نے یاسر کو مخبری کی ہے کہ میں اس کی غیر موجودگی میں یاسر کے گھر آتا ہوں میں نے احتیاطاً آنا جانا بند کردیا لیکن یہ بات شاید کافی پھیل چکی تھی جب میری بیوی نائلہ نے اس بارے استفسار کیا تو میں چونک گیا اور پھر صاف مکر گیا
شارق مجھے تم پر پورا بھروسہ ہے میرا بھروسہ کبھی نہ توڑنا ورنہ میں تمھیں چھوڑوں گی نہیں
بات آئی گئی ہوگئی میں نے سلمی سے وقتی قطع تعلق کرلیا لیکن کب تک آہستہ آہستہ یہ تعلق پھر استوار ہوگیا میرے پیچھے کوئی مخبر لگا ہوا تھا ایک بار پھر مخبری ہوگئی ویڈیو ثبوت کے ساتھ جس کا علم مجھے بعد میں ہوا ایک دفعہ جب میں نے یاسر کو فون کیا تو اس نے فون نہیں اٹھایا اور بار بار یہی ہوا جب میں گھر پہنچا تو نائلہ کا موڈ آف تھا لیکن مجھے دیکھ کر اس نے اپنے آپ کو سنبھال لیا میں نے پوچھا
کیا بات ہے
تو وہ بولی کچھ نہیں تمھیں ایک سرپرائز دینا تھا
سرپرائز کیسا سرپرائز
ادھر آؤ میرے ساتھ
وہ میرا ہاتھ پکڑ کر بیڈروم میں لے آئی اور بولی
کرسی پر بیٹھو اور آنکھیں بند کرلو
کچھ کھڑ پڑ کی آوازیں آئیں میں بھی تجسس میں تھا کہ ایسی کیا بات ہے پھر مجھے لگا وہ میرے ہاتھ پر کچھ لپیٹ رہی ہے
آنکھیں نہیں کھولنا وہ بولی
لیکن کچھ دیر بعد میں آنکھیں کھول لیں اور ششدر رہ گیا وہ میرے ہاتھ کرسی کے ساتھ ٹیپ کرچکی تھی اور پیر ٹیپ کررہی تھی
یہ کیا کررہی ہو
ابھی بتاتی ہوں وہ بولی وہ مجھے کرسی کے ساتھ مکمل جکڑ چکی تھی بھر وہ بولی
میں نے تم سے کہا تھا نا مجھ سے چیٹنگ نہ کرنا لیکن تم باز نہ آئے اور تم نے مجھ سے چیٹنگ کی ہے
میں گڑبڑا کر بولا
میں نے کب تم سے چیٹنگ کی ہے
تو بولی
ابھی بتاتی ہوں
یہ کہہ کے اس نے موبائل نکالا اور ایک ویڈیو چلاکر دکھائی اس ویڈیو میں میں ٹائم اور تاریخ کے ساتھ ساتھ میں یاسر کے گھر کے دروازے پر کھڑا ہوں اس ویڈیو میں میرے آنے اور جانے کا ٹائم ریکارڈ تھا
اب تمہارے پاس صفائی میں کچھ کہنے کو ہے
میں الٹے سیدھے ریزن دینے لگا
سلمی نے آواز لگائی یاسر اندر آؤ
اور کمرے میں یاسر داخل ہوا میں سمجھ گیا کہ میں بالکل پھنس چکا ہوں ہو یہ ویڈیو یقینا یاسر نے بھی دیکھ لی ہوگی
نائلہ بولی
بولو تم نے چیٹنگ کی ہے کہ نہیں کی
اور میں خاموش رہا
تم نے اپنی بیوی کو دھوکا دیا ہے اور اپنے دوست کو بھی دھوکا دیا ہے تمہیں اس کی سزا ملے گی اپنی بیوی کو اور اپنے دوست کو دھوکہ دینے کی کیا سزا ہونی چاہیے سزا تم خود ہی بتاؤ گے
میں خاموش رہا
ٹھیک ہے تم نہیں بتاتے تو پھر میں بتاتی ہوں ہو کہ تمہیں کیا سزا ملنی چاہیے تم نے اپنے دوست کی بیوی کو چودا ہے تو اس کا بدلہ یہی ہونا چاہیے کہ تمہارا دوست تمہاری بیوی کو چودے
کک کیا یہ کیا کہہ رہی ہو
نائلہ بولی ہاں
میں صحیح کہہ رہی ہوں میں نے اس لیے یاسر کو یہاں بلایا ہے تم نے ایک نہیں دو کو دھوکا دیا ہے اور جو تم نے یاسر کی بیوی کے ساتھ کیا ہے وہیں کچھ یاسر اب تمہاری بیوی کے ساتھ کرے گا اور تمہارے سامنے کرے گا
نہیں نہیں ایسا نہیں ہو سکتا میں گھگھیایا
ہاں
ایسا ہی ہوگا نائلہ بولی
پھر اس نے اپنی شرٹ کے بٹن کھولے اور شرٹ کو اتار دیا اور اسکرٹ کی زپ کھول کر اس کو بھی جسم سے الگ کردیا اب وہ ایک مختصر سی پینٹی اور برا میں بھی تھی
تم کیا دیکھ رہے کپڑے اتارو یا پھر میں اتاردوں
یہ کہہ کر نائلہ نے یاسر کو شرٹ کے بٹن کھولنے کا کہا اور اس کی پینٹ کی بیلٹ کھولی اور زپ نیچے کردی اور اندر ہاتھ ڈال کر اس کو لنڈ کو باہر نکال لیا
میں دم بخود ہوکر یہ سب دیکھ رہا تھا
یہ دیکھو مجھے مخاطب ہو کر نائلہ بولی اور یاسر کے لنڈ کی طرف اشارہ کیا اور اپنے ہونٹوں پر زبان پھیری
میں نہیں نہیں کرتا رہ گیا اور نائلہ نے یاسر کا لنڈ منہ میں لے کر چوسنا شروع کردیا اس دوران یاسر اپنے کپڑے اتار چکا تھا نائلہ اس کے لنڈ کو چوس چوس کر تنا چکی تھی میری طرف دیکھ کر اس نے اپنی برا کا ہک کھول کر برا میرے اوپر پھینک دی اور پینٹی بھی اتار کر میرے اوپر پھینک دی اب وہ مکمل ننگی ہوچکی تھی آنے والے لمحات کا سوچ کر میرا دل بیٹھا جارہا تھا لیکن میں کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا
دیکھ اب میں تیرے دوست کے سامنے ننگی ہوچکی ہوں اب تیرا دوست تیرے سامنے تیری بیوی کو چودے گا
نائلہ نے یاسر کا ہاتھ پکڑ کر اس کو بیڈ پر لے آئی اور یاسر کو بولی
چلو شروع ہوجاو اور مجھے چود کر اپنا بدلہ لے لو نوچو کھسوٹو لوٹ لو اپنے دوست کی بیوی کی مست جوانی کو
یاسر نے میرے سامنے نائلہ کو اپنی بانہوں میں بھر لیا اور ہونٹوں کو چوسنے لگا پھر مموں کو دبانے لگا وہ صحیح سے نائلہ کے حسین جسم کو چوس اور چاٹ رہا تھا پھر نائلہ کو بیڈ پر گرا دیا اور نائلہ کے اوپر چڑھ گیا اور اپنے لنڈ کو نائلہ کی چوت پر مسلنے لگا
نائلہ مجھے مخاطب ہوکر بولی
شارق دیکھو تیرے دوست کا لنڈ اب تیری بیوی کی چوت میں جانے والا ہے اب تیرا دوست تیرے سامنے تیری بیوی کی چوت مارے گا
یاسر اب کس بات کا انتظار کررہے ہو چود دو اپنے دوست کی بیوی کو
اور پھر میرے سامنے یاسر نے اپنا لنڈ نائلہ کی خوبصورت چکنی چوت میں ڈال دیا اور چودنے لگا نائلہ لذت آمیز سسکیاں لینے لگی اور یاسر کا ساتھ دینے لگی نائلہ کے ہاتھ یاسر کے چوتڑوں پر تھے اور وہ اسے اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔ کے جھٹکوں سے بیڈ کی چوں چوں اور نائلہ کی آہ آہ فک می ہارڈ کی آوازیں کمرے میں گونج رہی تھیں۔ کچھ دیر بعد نائلہ نے یاسر کو پیچھے ہٹایا اور بستر پر لٹادیا اور خود میری طرف منہ کرکے اس کے اوپر بیٹھ گئی اور یاسر کے لنڈ کو پکڑ کر اپنی چوت میں لے لیا اور ایک ہاتھ سے اپنی چوت کے کے دانے کو مسلنے لگی کافی دیر تک اس نے یاسر کے لنڈ پر سواری کی اشاروں سے وہ مجھے اپنے ہلتے ہوئے ممے دکھاتی رہی اور پھر یاسر کو کہا کہ وہ اس کو گھوڑی بنا کر چودے اور نائلہ گھوڑی بن گئی اور یاسر اس کے پیچھے کھڑا ہوا اور لنڈ کو اس کی چوت میں گھسیڑ دیا اور چودنا شروع کردیا اس کے جھٹکے تیز ہوگئے تھے یاسر کا لنڈ نائلہ کی چوت سے مزے لے رہا تھا مجھے یاسر کے صرف کالے ٹٹے ہلتے ہوئے نظر آرہے تھے میں بیٹھے ہوئے دل سے یہ جوانی کا کھیل دیکھ رہا تھا میرا دوست یاسر میرے بیڈ پر میرے سامنے میری بیوی کو ننگا کرکے اس کی جوانی کو لوٹ رہا تھا کافی دیر نائلہ کو اس طرح چودنے کے بعد وہ غرانے لگا نائلہ بیڈ سے اتر کے یاسر کے قدموں میں بیٹھ گئی اور مجھے مخاطب ہوکر بولی
دیکھ تیرا دوست میری چوت مار کر میرے مموں پر اپنے گرم قطرے ٹپکادیے گا
یہ کہہ کر اس نے ایک ہاتھ سے یاسر کے ٹٹے سہلانے لگی اور لنڈ کو منہ میں لے کر چوسنے لگی جب یاسر کراہنے لگا نائلہ نے لنڈ منہ سے نکال کر اپنے مموں پر کیا اور رگڑنے لگی یاسر کراہا اور اس کے لنڈ سے قطرے نکل کر مموں پر گرنے لگے پھر نائلہ نے لنڈ کو چاٹ کر صاف کیا اور مموں پر گرے ہوئے قطروں کو اچھی طرح مل لیا اور اپنی زبان ہونٹوں پر پھیرنے لگی۔
تو دوستوں اس طرح یاسر نے میری بیوی کو چود کر مجھ سے اپنی بیوی کی چودائی کا انتقام لے لیا۔
ختم شد
ایسی شادی شدہ خواتین جن کو ان کے شوہر مطمئن نہیں کر پاتے اور وہ اپنی سیٹزفیکشن چاہتی ہیں تو مکمل اعتماد کے ساتھ ان باکس میں رابطہ کریں۔
.jpeg)